سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 365

سيرة النبي علي 365 جلد 4 رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں دو دشمنوں کی ناکامی حضرت مصلح موعود نے 17 ستمبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل اور خونریزی کا بازار گرم رہتا۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رعب مٹتا جا رہا ہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار پایا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کر لیں اور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا۔اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا که آخری زمانہ کا نبی مکہ میں ظاہر ہو گیا ہے اور ہم اس کی بیعت کر آئے ہیں۔اس پر رسول کریم ہے کے دعوئی کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔اور چند دنوں کے بعد بعض اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم ﷺ کی بیعت کر لی۔پھر انہوں نے رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلم ہمارے ساتھ بھیجیں۔چنانچہ رسول کریم ہو نے ایک صحابی کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ صلى الله کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔انہی دنوں میں چونکہ مکہ میں رسول کریم علی اور آپ کے صحابہ کو بہت سی تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آر سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں تشریف لے آئیں۔چنانچہ رسول کریم۔بہت سے