سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 363

سيرة النبي علي 363 جلد 4 آیا جب آپ سیاسی اور ملکی دونوں طرح بادشاہ تھے۔پھر آپ کو حضرت عیسی والی غربت بھی دیکھنی پڑی اور آپ نے مکہ میں بڑی بڑی تکالیف اٹھائیں۔یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہوا اور آپ ایک فاتح اور بادشاہ کی حیثیت میں اس میں داخل ہوئے تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ آپ کی رہائش کا انتظام کس گھر میں کیا جائے ؟ تب بعینہ وہی فقرہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے نکلا تھا رسول کریم علیہ کی زبان سے بھی نکلا اور آپ نے فرمایا میرے رہنے کا کیا پوچھتے ہو، عقیل نے تو میرے لئے مکہ میں کوئی گھر نہیں چھوڑا جس میں میں رہ سکوں 1۔دراصل رسول کریم جب مدینہ تشریف لے گئے تھے تو آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کی وجہ سے آپ کے اکثر مکانات بیچ ڈالے تھے اور بعض پر خود قبضہ کر لیا تھا۔جس طرح انسان جب مرجاتا ہے تو اُس کے ورثاء اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہیں اسی طرح انہوں نے آپ کی جائیداد سے معاملہ کیا اور جب آپ مکہ میں فاتحانہ حیثیت میں داخل ہوئے تو کوئی ایسا مکان نہ تھا جسے آپ اپنا مکان کہہ سکیں۔اب یہ کتنا دردناک نظارہ ہے کہ ایک بادشاہ ہونے کی حیثیت میں رسول کریم ﷺ اپنے ملک اور اپنے شہر میں داخل ہوتے ہیں مگر کوئی گھر ایسا نہیں ملتا جسے آپ اپنا گھر کہہ سکیں۔آپ فرماتے ہیں مکہ میں تو ہمارے لئے کوئی گھر نہیں رہنے دیا گیا۔میدان میں خیمے لگاؤ اور وہاں میری رہائش کا انتظام الله کر و2۔غرض یہ ساری چیزیں رسول کریم ﷺ کی ذات میں جمع تھیں اور پھر ساری عزتیں بھی آپ کی ذات میں جمع ہوئیں۔جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن صلى الله ہمیشہ کے لئے مغضوب ہو گئے تھے اسی طرح رسول کریم علیہ کے بعض دشمنوں کو بھی خدا نے مغضوب قرار دیا۔جس طرح نوح کے دشمنوں کو خدا تعالیٰ نے کلّی طور پر ہلاک کر دیا تھا اسی طرح آپ کے بعض دشمنوں کو بھی اس نے کلّی طور پر ہلاک کیا۔جس طرح موسی کے دشمنوں کو اُس نے پانی میں غرق کیا اسی طرح رسول کریم ﷺ کے دشمنوں کو بھی اس نے غرق کیا۔دونوں طرح یعنی خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔