سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 359
سيرة النبي عليه 359 جلد 4 بیڑیاں پڑی تھیں، جس کا تمام جسم لہولہان تھا نہایت تکلیف سے لڑھکتا اور گرتا پڑتا وہاں پہنچا اور عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! میرا حال دیکھئے میں مسلمان ہوں اور میرے رشتہ داروں نے اس طرح مجھے بیڑیاں پہنائی ہوئی ہیں اور مجھے شدید تکالیف پہنچا رہے ہیں۔آج کفار لڑائی کیلئے تیار ہوئے تو میرا پہرہ ذرا کمزور ہوا اور میں موقع پا کر نکل بھاگا اور اس حالت میں یہاں پہنچا ہوں۔صحابہ کو اس کی حالت دیکھ کر اتنا جوش تھا کہ وہ آپے سے باہر ہو رہے تھے لیکن اہل مکہ کی طرف سے جو شخص سفیر ہوکر آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم ﷺ کا نام لے کر کہا کہ ہمیں آپ سے غداری کی امید نہیں۔آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے تو اسے واپس کر دیں گے اس لئے یہ شخص واپس کیا جائے۔اُس وقت اُن ہزاروں آدمیوں کے سامنے جو اپنے گھروں سے جانیں دینے کیلئے نکلے تھے ان کا ایک بھائی تھا جو مہینوں سے قید تھا، جس کے ہاتھوں اور پاؤں سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تھا اسے دیکھ کر صحابہ کی تلواریں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں اور وہ دلوں میں کہہ رہے تھے کہ ہم سب یہیں ڈھیر ہو جائیں گے مگر اسے واپس نہیں جانے دیں گے۔مگر رسول کریم صلى الله نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ خدا کے رسول دھوکا نہیں کیا کرتے۔ہم نے وعدہ کیا ہے اور اب خواہ ہمارے دلوں کو کتنی تکلیف ہوا سے پورا کریں گے اور آپ نے کفار کے نمائندہ سے فرمایا کہ اسے لے جاؤ۔جب اس شخص نے دیکھا کہ مجھے واپس کیا جا رہا ہے تو اس نے پھر نہایت مترحمانہ نگاہوں کے ساتھ صحابہ کی طرف دیکھا اور کہا تم جانتے ہو مجھے کس طرف دھکیلتے ہو؟ تم مجھے ظالم لوگوں کے قبضہ میں دے رہے ہو۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کو تاب نہ تھی کہ آنکھ اٹھا سکے اس لئے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے 2۔لیکن صحابہ کو اس کا رنج اتنا تھا ، اتنا تھا کہ جب صلح نامہ پر دستخط ہو چکے تو رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا