سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 350

سيرة النبي عمال 350 جلد 4 تسلیم کریں گے۔خیر وہ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آگئے اور مجھے آکر کہنے لگے کہ میں نے ان کی خوب خبر لی ہے۔وہ ہماری تمام باتیں مان گئے ہیں اور اب وہ بیعت کرنے کے بالکل قریب ہیں۔میں نے کہا تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر ان کے پاس جائیں گے تو پتہ لگ جائے گا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ دوبارہ ان سے ملے اور مل کر واپس آئے تو کہنے لگے وہ تو عجیب آدمی ہیں۔میری باتیں سن کر تو کہتے رہے کہ ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہے مگر جب آخر میں میں نے کہا کہ جب تمام باتیں درست ہیں تو آپ احمدیت کو قبول کر لیجئے تو وہ کہنے لگے میاں ! یہ معمولی ولایت کے کمال ہیں ان سے کسی کو مامور تھوڑا ہی مانا جاسکتا ہے اور یہ تو ادنی باتیں ہیں۔جو کامل ولی ہوں وہ تو اس سے بھی بڑے بڑے معجزات دکھا سکتے ہیں۔پھر انہوں نے خود ایک قصہ سنایا۔کہنے لگے تم نے سنا ہوگا کہ مکہ میں تربوز بہت اچھے ہوتے ہیں۔اب قرآن میں لکھا ہے کہ وہ وادی غَيْرِ ذِي زَرع 11 ہے جب وہ ایسی وادی ہے جس میں کچھ بھی پیدا نہیں ہوسکتا تو پھر اعلیٰ قسم کے تربوز اتنی کثرت سے کہاں سے آ جاتے ہیں۔سو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ گدھوں والے مکہ سے طائف جاتے ہیں اور طائف سے بڑے بڑے کھنگھر اپنے بوروں میں بھر لیتے ہیں جب وہ واپس آتے اور مکہ میں پہنچتے ہیں تو تمام کھنگھر تربوز بنے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر کہنے لگے ہمارے ایک دادا تھے وہ بڑے بزرگ اور اللہ تعالیٰ کے کامل ولی تھے۔ایک دفعہ وہ بغداد سے جہاز پر سوار ہوئے۔راستہ میں جہاز کہیں گھنٹہ بھر ٹھہرا تو وہ کہنے لگے میں فلاں بزرگ سے مل آؤں۔لوگوں ہے، نے انہیں کہا کہ جہاز نے یہاں صرف ایک گھنٹہ ٹھہرنا ہے اور آندھی بھی آئی ہوئی۔آپ نہ جائیں۔مگر وہ کہنے لگے نہیں میں ضرور جاؤں گا اور اگر میں ایک گھنٹہ تک نہ آؤں تو میرا انتظار نہ کیا جائے اور جہاز بے شک روانہ ہو جائے۔چنانچہ ایک گھنٹہ تک جہاز کھڑا رہا مگر وہ نہ آئے اور جہاز چل پڑا۔جس وقت جہاز بمبئی پہنچا تو لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی بزرگ ساحل بمبئی پر ٹہل رہے ہیں۔لوگوں نے عرض کیا حضرت آپ