سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 351

سيرة النبي عمال 351 جلد 4 کہاں؟ کہنے لگے مجھے جب معلوم ہوا کہ جہاز چل پڑا ہے تو میں نے کھڑاواں پہنی اور بھاگ کر ہمبئی آگیا۔پھر کہنے لگے وہ بزرگ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں جمعہ کے دن فوت ہوں گا اور میرا جنازہ کشمیر کی شاہی مسجد میں پڑھا جائے گا اور وہیں میں دفن ہوں گا۔چنانچہ ایک دن جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ چکے تو لوگوں سے کہنے لگے بھائیو! ذرا ٹھہر جانا میں اب فوت ہونے لگا ہوں، مجھے نہلا دھلا کر جانا۔وہ کہنے لگے کہ آپ تو کہا کرتے تھے کہ میرا کشمیر میں جنازہ ہوگا اور وہیں میں دفن ہوں گا مگر آپ فوت یہیں ہونے لگے ہیں۔انہوں نے فرمایا تم فکر نہ کرو وہ بھی ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے کلمہ پڑھا اور فوت ہو گئے۔لوگوں نے انہیں نہلایا دھلایا اور پھر کفن پہنا کر چار پائی پر لٹا دیا۔بس جو نبی انہوں نے نعش چار پائی پر رکھی وہ کیا دیکھتے ہیں کہ نعش غائب ہے۔ادھر سرینگر کی جامع مسجد میں جب جمعہ ہو چکا تو امام صاحب نے لوگوں سے کہا بھائیو ! ذرا ٹھہر جانا یہاں ایک بہت بڑے بزرگ کا جنازہ آنے والا ہے۔لوگوں نے کہا یہاں تو کوئی بزرگ فوت نہیں ہوا۔امام صاحب کہنے لگے ابھی جنازہ پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ وہ مصلی پر بیٹھ گئے اور انہوں نے تھوڑی دیر ہی تسبیح پھیری تھی کہ یکدم ایٹہ سے جو علی گڑھ کے قریب ہے چار پائی پر جنازہ وہاں آ اترا اور سب نے ان کا جنازہ پڑھ کر انہیں وہیں دفن کر دیا۔یہ قصہ سنا کر وہ میر محمد الحق صاحب سے کہنے لگے میاں! معجزے تو یہ ہوتے ہیں۔وہ بھی کیا معجزے ہیں جو مرزا صاحب نے دکھائے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات اور ان صاحب کے مذکورہ معجزات کی آپس میں کوئی نسبت نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ صرف اوہام باطل تھے۔مگر جب تاریخی معجزات سے لوگ یہ سلوک کریں تو ان معجزات کا کیا حال ہو گا جو رسول کریم ﷺ کے اصلی معجزات کو چھوڑ کر لوگوں نے خود بطور کہانی کے بنالئے ہیں۔پھر اس قسم کے غیر تاریخی معجزات جب مسلمان مولوی ہندوؤں کے سامنے بیان الله