سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 349

سيرة النبي عليه 349 جلد 4 صلى الله صلى الله فضیلت کا معیار سمجھی ، نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فقیروں نے کالی کملی اوڑھ لی اور سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ کے تمام کمالات انہیں حاصل ہو گئے۔پھر انہوں نے رسول کریم علی میں ایک اور حسن یہ دیکھا کہ آپ کی زلفیں لمبی تھیں یہ دیکھ کر مسلمان فقیروں نے بھی اپنے بال بڑھا لئے اور سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ کی اتباع ہوگئی اور ہم آپ کے مثیل بن گئے۔مگر ایک احمدی جب رسول کریم میلے کے اخلاق کو پیش کرے گا تو وہ آپ کے ان اخلاق کو پیش کرے گا جو ساری دنیا کی کملیوں والوں پر کیا، ساری دنیا کے نبیوں اور رسولوں پر آپ کی فضیلت ثابت کر دیتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو ان تعریفوں میں رسول کریم اللہ کا مقابلہ کر سکے۔پھر جب یہ لوگ رسول کریم ﷺ کے معجزات بیان کرتے ہیں تو ایسے ایسے معجزات بیان کرتے ہیں جنہیں سن کر بجائے متاثر ہونے کے لوگ ہنستے ہیں اور پھر جب ہندوؤں کے سامنے ان قصوں کو رکھا جاتا ہے تو وہ ان سے بھی بڑے بڑے قصے اپنے بزرگان کے متعلق سنا دیتے ہیں کیونکہ خالی قصوں پر اگر دین کا مدار ہو تو قصے بنانے کوئی الله مشکل کام نہیں۔ہمارے ایک عزیز تھے جو احمدی نہیں تھے وہ ایک دفعہ قادیان آئے۔میر محمد اسحق صاحب اُس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔چھوٹی عمر میں انسان دعوئی زیادہ کر لیتا ہے اور بعض دفعہ جب اسے کوئی نئی دلیل ملتی ہے تو وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکتا اور وہ اس بات سے ناواقف ہوتا ہے کہ نہ ماننے والے کئی راستے نکال لیتے ہیں۔اُن دنوں حقیقۃ الوحی تازہ تازہ چھپی تھی اور چونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بہت سے معجزات کا ذکر کیا ہے اس لئے میر محمد الحق صاحب حقیقۃ الوحی لے کر ان کے پاس چلے گئے۔اُس وقت میر صاحب کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی۔انہوں نے خیال کیا کہ جونہی میں نے اس کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات بیان کئے وہ احمدیت کی صداقت فوراً