سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 348

سيرة النبي علي 348 جلد 4 کے واعظ جب ہمارے شہر میں آتے ہیں تو میں ان کے وعظوں اور تقریروں میں شامل ہوتا ہوں۔جب کوئی بڑا مولوی آجاتا ہے اور لیکچر دیتا ہے تو میں اس کے لیکچر میں بھی شامل ہو جاتا ہوں اور جب کوئی عیسائی پادری آجاتا ہے تو اس کا وعظ سننے کیلئے بھی چلا جاتا ہوں اور جب کوئی ہندو پنڈت آتا ہے تو اس کی تقریر میں بھی چلا جاتا ہوں۔مسلمان واعظوں میں سے مجھے ان کی تقریر کا زیادہ شوق رہتا ہے جو آنحضرت عہ کے حالات زندگی سنائیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مضمون ہے اور ایک غیر مذہب والے کو مذہبی مضمون سے تاریخی مضمون سے زیادہ دلچسپی ہوسکتی ہے۔لیکن ایک بات میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی اور وہ یہ کہ عیسائی پادری جب وعظ کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے محبت کی تعلیم دی اور انہوں نے لوگوں کیلئے اپنی جان قربان کر دی۔ایک ہندو پنڈت کھڑا ہوتا ہے تو وہ بھی حضرت کرشن جی کے فضائل بیان کرتا اور کہتا ہے کہ انہوں نے دنیا سے جھگڑا اور فساد دور کیا۔حضرت رام چندر کے متعلق کہتا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ یہ سکھ پہنچایا۔ایک سکھ گیانی آتا ہے تو وہ بھی اپنے گرو کی خوبیاں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے مگر جب کوئی مسلمان مولوی آتا ہے اور محمد مے کے فضائل بیان کرنے لگتا ہے تو یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ او کالی کملی والے او زلفاں والے! او کالی کملی والے او زلفاں والے!۔میں اس کی یہ بات سن کر شرم اور صلى الله صلى الله ندامت سے پسینہ پسینہ ہو گیا اور میں نے اُسے کہا یہ مسلمان رسول کریم ع کے فضائل سے ناواقف ہیں۔اگر یہ لوگ قرآن کریم پڑھیں اور احادیث سے واقفیت رکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو کس اعلیٰ رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔مگر چونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے محاسن پر کبھی غور نہیں کیا اس لئے یہ بڑی سے بڑی خوبی اور بڑے سے بڑا کمال جو آپ کا بیان کریں گے وہ یہی ہوگا کہ ”او کالی کملی والے او زلفاں والے“۔غرض یہ لوگ جو رسول کریم ﷺ کی تعریف کرتے ہیں اس میں ہر شخص شامل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کالی کملی رسول کریم ﷺ کی۔