سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 347

سيرة النبي عمال 347 جلد 4 کا ذکر ہوتا ہے نہ رسول کریم ﷺ کے درجہ کا ذکر ہوتا ہے۔صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ میرے اس مقدمہ میں یا مجسٹریٹ نے فیصلہ کرنا ہے یا خدا نے۔یا اگر گاؤں میں بیٹھ کر کوئی زمیندار اسی قسم کا فقرہ نمبردار سے کہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ میرا فیصلہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس سے نیچے اتر کر نمبر دار کے ہاتھ میں۔لیکن اگر ان معنوں کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور جب کوئی زمیندار کسی نمبر دار کو کہے کہ ” خدا دے ہیٹاں ساڈے تیں ہی ہو تو جھٹ پولیس کا کوئی آدمی اسے ہتھکڑی لگا لے اور کہے کہ ہر میجسٹی شہنشاہ معظم کی بادشاہت کا یہ انکار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ خدا کے نیچے نہ کوئی بادشاہ ہے نہ حاکم ، جو ہے یہ نمبردار ہی ہے۔پس یہ ہائی ٹریزن (High Treason) کا مجرم ہے اسے جیل بھیجنا چاہئے۔تو کیا ساری دنیا اس سپاہی کو پاگل قرار نہیں دے گی ؟ وہ کہے گی اسے جیل خانہ بھیجنے کی بجائے تمہیں پاگل خانہ بھیجنا چاہئے۔کیونکہ تمہیں سوچنا چاہئے تھا کہ اس فقرے کا محل کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔الله پھر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تم اپنے متعلق یہ دعوی کرتے ہو کہ ہمیں رسول کریم ﷺ سے محبت ہے مگر اس لفاظی کا کیا فائدہ۔تم نے کبھی غور بھی کیا ہے کہ صلى الله تمہاری اس محبت میں جو تم رسول کریم علیہ سے رکھتے ہو اور ہماری اس محبت میں جو ہم صلى الله رسول کریم ﷺ سے رکھتے ہیں کتنا عظیم الشان فرق ہے اور کتنا بین امتیاز ان دونوں میں موجود ہے۔میں ایک دفعہ قصور گیا وہاں ایک دوست کا ایک کارخانہ ہے۔وہ مجھے اپنا کارخانہ دکھانے کیلئے لے گئے۔اُس وقت تک وہ غیر مبائعین سے تعلق رکھتے تھے مگر اب وہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔اسی اثنا میں قصور کا ایک ہندو نوجوان جو نہایت ہوشیار اور چلتا پرزہ تھا وہاں آ گیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میرا ایک سوال ہے آپ اس کا جواب دیں۔میں نے کہا دریافت کیجئے۔وہ کہنے لگا مجھے اس بات کا شوق ہے کہ مختلف مذاہب کے جو بانی ہیں ان کے حالات زندگی معلوم کروں۔اس وجہ سے مختلف مذا ہر