سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 346
سيرة النبي متر 346 جلد 4 جب کوئی شخص یہ کہے کہ سب سے بڑا پہلوان گاما ہے تو اس سے یہ بحث شروع کر دینی چاہئے کہ سب سے بڑا پہلوان تو رستم تھا تم گاما کو سب سے بڑا پہلوان کیوں قرار دیتے ہو؟ یا سب سے بڑا پہلوان تو غلام تھا تم گاما کو کیوں بڑا کہتے ہو؟ اگر کوئی شخص ایسی بحث کرے تو ساری دنیا اسے احمق قرار دے گی اور کہے گی کہ یہاں رستم اور گاما کا مقابلہ کون سا ہو رہا ہے یہاں تو یہ ذکر ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا پہلوان کون سا ہے۔غرض تم ساری دنیا کا چکر لگاؤ ، ساری دنیا کا نہ سہی تم ہندوستان کا ہی چکر لگا کر دیکھ لو تمہیں گلیوں میں اور بازاروں میں، مدرسوں اور خانقاہوں میں ، چھوٹوں اور بڑوں میں غرض ہر جگہ اور ہر شہر میں اس قسم کے فقرات بولتے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔وہ کہیں گے فلاں شخص سب سے بڑا ہے اور سب سے بڑا ہونے سے مراد وہ کبھی یہ نہیں لیں گے کہ وہ پہلوں اور پچھلوں سب سے بڑا ہے بلکہ سب سے بڑا ہونے سے یہ مراد لیں گے کہ وہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا ہے یا ایک خاص دائرہ میں سب سے بڑا ہے۔تم چلے جاؤ عدالتوں میں تمہیں روزانہ اس قسم کے نظارے دکھائی دیں گے کہ مجسٹریٹ کے سامنے مقدمہ پیش ہو رہا ہے اور ایک غریب شخص جس کا مقدمہ عدالت کے سامنے ہے وہ مجسٹریٹ کو مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہا ہے ”خدا دے ہیٹاں ساڈے تسیں ہی ہو ، یعنی خدا کے نیچے اب آپ ہی ہمارا کام کرنے والے ہیں۔روزانہ زمیندار اور پیشہ ور اس قسم کے فقرات استعمال کرتے ہیں مگر کبھی انہیں کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ تم دہر یہ ہو گئے یا رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا تم نے انکار کر دیا۔پس میں حیران ہوں کہ ادیب کہلانے والے ان محاوروں کو بھی کیوں نہیں سمجھتے جو جاہل سے جاہل زمیندار روزانہ بولتا ہے اور کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔زمیندار جب یہ فقرہ استعمال کرتا ہے کہ ” خدا دے ہیٹاں ساڈے تسیں ہی ہو تو ”ہیٹاں“ سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اب خدا کے بعد اسی مجسٹریٹ کا درجہ ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے اس مقدمہ کا یا خدا فیصلہ کر سکتا ہے یا آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔وہاں نہ دین 66