سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 342

سيرة النبي علي 342 جلد 4 میں پوچھتا ہوں کہ اگر احمدیوں کے سوا کسی دوسرے مسلمان کے منہ سے کسی اپنے بزرگ کے متعلق یہ لفظ نکلیں کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے بعد آپ ہی کو سمجھتے ہیں تو کیا اس کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ وہ اُس بزرگ کا درجہ رسول کریم علیہ سے بھی بڑا سمجھتا ہے؟ ہر شخص جو معمولی عقل بھی رکھتا ہو سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے فقرہ کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ اس بزرگ کا درجہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑا ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اپنے زمانہ میں وہ تمام دنیا پر فضیلت رکھتا ہے۔اور احسان“ بھی کبھی اس پر اعتراض نہ کرے گا۔یہ اعتراض اس کے صرف جماعت احمد یہ کیلئے وقف ہیں۔پھر یہ لوگ تعلیم قرآن سے ایسے بے بہرہ ہو چکے ہیں کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی مثالیں موجود ہیں اور وہ انہیں پڑھتے ہیں پھر بھی اس اسلوب بیان کو نہیں سمجھ سکتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق فرماتا ہے وَاصْطَفْكِ عَلَى نِسَاء الْعَلَمِینَ 3 کہ ساری دنیا کی عورتوں سے حضرت مریم علیہا السلام افضل ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ احسان کے ایڈیٹر کا اس بارہ میں کیا عقیدہ ہے مگر میں تو ایک منٹ کیلئے بھی اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ حضرت مریم ہماری ماں عائشہ صدیقہ سے بڑی ہوں یا ہماری ماں خدیجہ سے درجہ میں بلند ہوں۔پھر خود رسول کریم نے ایک حدیث میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا کہ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ 4 یعنی وہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی۔اب بتاؤ اس جنت میں حضرت مریم علیہا السلام ہوں گی یا نہیں ہوں گی ؟ اگر حضرت مریم علیہا السلام نے بھی جنت میں ہی جانا ہے اور وہ جہان کی تمام عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں تو حضرت فاطمہ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ کس طرح ہو سکتی ہیں۔پس بہر حال اس آیت کے کوئی معنے کرنے پڑیں گے اور وہ معنے یہی ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام صرف اپنے زمانہ کی تمام عورتوں سے درجہ میں بلند تھیں۔پھر اگر وہاں یہ معنے کرنے جائز ہیں تو شرافت اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس احمدی کے فقرہ کے بھی یہی معنے کئے جائیں کہ اس زمانہ صلى الله۔