سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 340
سيرة النبي مله 340 جلد 4 کہتے ہیں وہ اسلام میں داخل ہو جائیں تو ہم ان سے کیا کہلواتے ہیں؟ وہی کلمہ شہادت يعنى لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ۔اسی طرح افریقہ کے لوگوں کو جب ہم مسلمان بناتے ہیں، جب ہم سماٹرا، جاوا، چین اور جاپان میں اسلام کی اشاعت کرتے ہیں تو ان لوگوں سے کیا کہلواتے ہیں؟ یہی کہ لا الہ الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پھر کیا یہ صلى الله رسول کریم ﷺ کی عزت قائم ہوری ہے یا ہماری عزت قائم ہورہی ہے؟ ہماری اور محمد مہ کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے ہمالیہ پہاڑ اور سائبان۔سائبان ایک لگتا ہے اور کچھ مدت کے بعد اٹھ جاتا ہے۔ایک پھٹتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آ جاتا ہے لیکن ہمالیہ پہاڑ برابر اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور اسے کوئی شخص ہلا نہیں سکتا۔اسی طرح خلفاء آتے اور چلے جاتے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا صلى الله خلیفہ دنیا میں آتا اور اپنا اپنا فرض سر انجام دے کر چلا جاتا ہے مگر رسول کریم کے ہمالیہ کی طرح اپنے مقام پر کھڑے ہیں اور ایک لمحہ بھی آپ پر ایسا نہیں آتا جب آپ دنیا کو اپنے فیوض نہ پہنچا رہے ہوں۔پس جس احمدی نے بھی یہ بات کہی ہے انہی معنوں میں کہی ہوگی کہ اس زمانہ میں جولوگ ہیں ان کے لحاظ سے ہم اپنے خلیفہ کو بعد از خدا سمجھتے ہیں اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے کہ اگر اس نے ان معنوں میں ان الفاظ کو استعمال کیا ہے تو یقیناً اُس نے سچ کہا ہے۔اس میں کیا شبہ ہے اور جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں، میں نے بھی بارہا بتایا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے۔وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم ﷺ کا نمائندہ ہے اور چونکہ دین دنیا پر مقدم ہے اس لئے گو ہم دنیوی معاملات میں حکام کی اطاعت کریں گے لیکن اگر دین کا معاملہ آئے گا تو پھر ان بادشاہوں کو ہماری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔آج اگر دنیا کا ایک بڑے سے بڑا بادشاہ بھی مذہب کی تحقیق کرتا ہے اور تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اسلام ہی تمام مذاہب پر فضیلت رکھتا ہے تو جب وہ اس نکتہ پر پہنچے گا اُس