سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 339

سيرة النبي عمال 339 جلد 4 لئے جائیں گے کہ ( نَعُوذُ بِاللهِ) میرا درجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑا ہے؟ آخر وہ کیا چیز تھی جس سے میں نے یورپ کے لوگوں کو مسلمان بنایا اور کیا وہ میری چیز تھی ؟ پھر وہ کیا چیز تھی جس سے میں نے امریکہ کے لوگوں کو مسلمان کیا اور کیا وہ چیز میری ایجاد کردہ تھی ؟ پھر وہ کیا چیز تھی جس سے میں نے سماٹرا اور جاوا کے لوگوں کو مسلمان کیا اور انہیں رسول کریم ﷺ کی غلامی میں حقیقی معنوں میں داخل کیا اور کیا وہ چیز میری تھی؟ وہ صداقت کی تلوار جس سے میں نے ان علاقوں کو فتح کیا وہ میری نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔پس یہ میرا کام نہیں بلکہ انہی کا کام ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تلوار چلائی وہ بھی آپ کی نہیں تھی بلکہ قرآن اور حدیث اور محمد اللہ کی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جو کچھ کیا وہ ان کا نہیں بلکہ محمد ﷺ کا کام تھا۔ہمارا کام تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کا پیغام دنیا کے کونوں تک پہنچائیں۔ورنہ اگر ہم دنیا کے ایک ایک آدمی کو مسلمان بنالیں اور دنیا کے ایک ایک آدمی کے گند کو نکال کر اُسے تقویٰ اور طہارت سے لبریز کر دیں اور دنیا کی تمام حکومتوں کا نقشہ بدل کر اسلامی حکومتیں قائم کر دیں اور انصاف اور عدل قائم کر کے تمدنی معاملات میں اس قدر تغیر پیدا کر دیں کہ تمام دنیا کے لوگ ایک دوسرے کو بھائی بھائی سمجھنے لگیں۔اسی طرح ہم تجارت، زراعت اور صنعت و حرفت میں ایسی اصلاح کر دیں کہ تمام انسانوں میں مساوات قائم ہو جائے اور سب ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے لگیں۔غرض ہم سب کچھ کر دیں اور ہمارے علاقوں کی وسعت ہزاروں گنے زیادہ ہو جائے اور ہمارے ماتحت افراد کی تعداد لاکھوں گنے بڑھ جائے پھر بھی ہمارا کام رسول کریم ﷺ کے کام کے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔پس ہمارا جس قدر کام ہے یہ ہمارا نہیں بلکہ رسول کریم علیہ کا ہے اور صلى الله۔الله ہماری تمام کوششیں اپنا نام پھیلانے کیلئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کا نام پھیلانے اور آپ کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے ہیں۔آخر جب ہم امریکہ کے لوگوں