سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 338

سيرة النبي عمل الله محمد کا کام تھا۔338 جلد 4 آج لڑائیوں میں لوگ کثرت سے تو ہیں چلاتے ہیں مگر کیا تم اُس انجینئر کو زیادہ قابل اعزاز سمجھتے ہو جس نے آج سے سو سال پہلے توپ ایجاد کی یا آج کل کے تو ہیں بنانے والوں کو زیادہ معزز سمجھتے ہو۔اُس زمانہ میں بڑے سے بڑے گولے چھ پونڈ یا دس پونڈ کے ہوا کرتے تھے مگر آج کل کے کارخانے ان سے بہت بڑی بڑی تو ہیں بناتے ہیں۔مگر باوجود اس تمام ترقی کے یہ کارخانے چلانے والے اُس انجینئر زیادہ معزز نہیں سمجھے جا سکتے جس نے توپ ایجاد کی کیونکہ اُس نے ایک نیا خیال پیدا کیا اور ایک نئی ایجاد کے راستہ پر لوگوں کو ڈال دیا جس پر دنیا آخر ترقی کرتی چلی گئی۔اسی طرح ابتدائے اسلام میں وہ سپاہی جنہوں نے دنیا فتح کی وہ محمد ﷺ نے پیدا کئے تھے۔وہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے پیدا نہیں کئے تھے۔ہاں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں چونکہ زیادہ علاقے فتح ہو چکے تھے اس لئے انہوں نے پہلے سپاہیوں کے رنگ میں اور سپاہی بھی تیار کر لئے اور ان کی مدد سے کئی علاقے فتح کر لئے مگر بہر حال یہ تمام فتوحات عمر کی نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی تھیں۔پس شاگرد دنیا میں جو کام بھی کرتے ہیں وہ ان کے آقا کی طرف منسوب ہوتا ہے اور وہ سخت احمق شاگر د ہو گا جو یہ کہے گا کہ اس کا کام اس کے آقا سے بڑا ہے یا اس کی بڑائی کے دعوی سے یہ مراد ہے کہ وہ اپنے آقا سے بھی درجہ میں بڑھ گیا ہے۔صلى الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بیرونِ ہند میں سوائے افغانستان کے اور کہیں تبلیغ احمدیت نہیں تھی۔عرب اور ایران میں اگے دستے احمدی تھے مگر میرے زمانہ میں قریباً ساری دنیا اور سارے براعظموں میں احمدیت کی تبلیغ ہوئی ہے ، یورپ کے مختلف علاقوں میں تبلیغ ہوئی ہے، افریقہ کے مختلف علاقوں میں تبلیغ ہوئی ہے۔اسی طرح چین ، سماٹرا، جاوا اور امریکہ میں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں اور پھر پہلے سے بہت زیادہ مصر، فلسطین اور شام کے حصوں میں احمدیت پھیل چکی ہے۔مگر کیا اس کے یہ معنے