سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 337
سيرة النبي عمال 337 جلد 4 کو ان سے بہت زیادہ افراد پر حکومت حاصل تھی جتنے افراد پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکومت حاصل تھی۔اسی طرح باوجود اس کے کہ حضرت عمرؓ کو اس سے بہت زیادہ علاقہ صلى الله اور بہت زیادہ افراد پر حکومت حاصل تھی جتنے علاقہ یا جس قدر افراد پر رسول کریم ﷺ یا حضرت ابو بکر نے حکومت کی۔پھر بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ رسول کریم ع سے بڑے تھے۔اسی لئے کہ ابوبکر، ابوبکر کہاں سے بنتا اگر وہ رسول کریم ﷺ کا غلام نہ ہوتا اور عمر، عمرؓ کہاں سے بنتا اگر وہ رسول کریم ﷺ کا غلام نہ ہوتا۔بے شک حضرت ابو بکر نے اسلام کیلئے ایک وسیع علاقہ فتح کیا اور پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگوں پر حکومت کی مگر جو لوگ آپ کے تابع ہوئے وہ کن فوجوں سے فتح ہوئے تھے؟ انہی فوجوں سے جو رسول کریم ﷺ نے تیار کی تھیں۔اور بے شک حضرت عمرؓ نے اس سے بھی زیادہ علاقہ پر حکومت کی اور اس سے بھی زیادہ افراد حلقہ بگوش اسلام بنائے مگر سوال یہ ہے کہ کیا عمر نے کوئی اپنی فوجیں تیار کر لی تھیں ؟ حضرت عمرؓ نے وہی فوجیں لیں جو محمد ﷺ نے تیار کی تھیں اور اُسی سامان اور اُسی ایمان سے کام لیا جو سامان اور ایمان رسول کریم علیہ نے تیار کیا تھا۔وہی قربانی ، وہی ایثار، وہی اخلاص اور وہی محبت کا جذ بہ جو رسول کریم علیہ نے لوگوں کے قلوب میں پیدا کیا تھا اُسی کو حضرت عمرؓ نے لیا اور اُن چیزوں کو اکٹھا کر کے ان سے ایک عمارت تیار کی۔پس وہ عمر کی عمارت نہیں تھی وہ رسول کریم ﷺ کی عمارت تھی۔اور جبکہ وہ سامان جن سے حضرت ابو بکر نے بڑائی حاصل کی رسول کریم ﷺ کے پیدا کئے ہوئے تھے اور جب کہ وہ سامان جن سے حضرت عمرؓ نے بڑائی حاصل کی رسول کریم ع کے پیدا کئے ہوئے تھے تو گو ظاہری طور پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے زیادہ علاقہ پر الله حکومت کی مگر وہ رسول کریم ﷺ سے بڑے نہیں تھے اور گو ظاہری طور پر ان کی رعایا کی تعداد بھی زیادہ تھی مگر پھر بھی وہ رسول کریم ﷺ کی حکومت سے باہر نہیں جاسکتے تھے اور نہ آپ کی غلامی سے وہ ایک لمحہ کیلئے بھی الگ ہو سکتے تھے۔کیونکہ یہ کام ان کا نہیں الله