سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 331

سيرة النبي علي 331 جلد 4 افسر نے جواب دیا کہ مجھے تو اجتہاد کا حق نہیں۔مگر انہوں نے اُس کے مشورہ کو قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ بالکل جاہلانہ مشورہ ہے اور اس میں اطاعت کے لئے ہم تیار نہیں ہیں اور ہم جہاد کے ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہتے۔چنانچہ تین آدمی وہاں رہے اور باقی وہاں سے ہٹ آئے۔اُس وقت تک حضرت خالد بن ولید مسلمان نہ ہوئے تھے، خالد بہت زیرک نوجوان تھے ، دشمن بھاگ رہا تھا کہ اُن کی نظر درہ پر پڑی اور دیکھا کہ وہ خالی ہے، انہوں نے جھٹ عکرمہ کو اشارہ کیا کہ ابھی شکست کو فتح میں بدلا جاسکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے چند سو سپاہی ساتھ لئے اور پیچھے سے آ کر اس درّہ پر حملہ کر دیا۔وہاں صرف تین مسلمان تھے باقی جاچکے تھے ، وہ تینوں شہید ہو گئے اور عین اُس وقت جب مسلمان دشمن کو بھگاتے ہوئے لے جا رہے تھے پیچھے سے حملہ ہوا اور اچانک حملہ کی وجہ سے صحابہ کے پاؤں اکھڑ گئے۔رسول کریم ہے صرف بارہ صحابہ کے ساتھ میدان میں رہ گئے اور جب دشمن نے آپ پر پورے زور کے ساتھ حملہ کیا تو ان بارہ میں سے بھی بعض مارے گئے اور بعض دھکیلے جا کر پیچھے ہٹ گئے۔حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ اسی ریلے میں پیچھے دھکیلے گئے اور آخر صرف رسول کریم و اکیلے رہ گئے اور چاروں طرف سے آپ پر پتھر برسائے جارہے تھے حتی کہ خود کی کیلیں سر میں دھنس گئیں اور آپ بے ہوش کر زمین پر گر گئے اور دشمن نے خیال کر لیا کہ شاید آپ وفات پاگئے ہیں۔اور اس ہنگامہ میں جو صحابہ شہید ہوئے اُن کی لاشیں بھی آپ کے اوپر گر گئیں اور دشمن مطمئن ہو کر واپس چلا گیا کہ آپ شہید صلى الله صلى الله الله ہو چکے ہیں۔چنانچہ جب صحابہ جمع ہوئے تو انہوں نے آنحضرت علی کو لاشوں کے ڈھیر میں سے نکالا اور دیکھا کہ آپ ابھی زندہ ہیں۔ایک صحابی نے پورے زور کے ساتھ خو د کو کھینچ کر نکالا اور اس قدر زور لگانا پڑا کہ آپ کے دانت ٹوٹ گئے 1۔دیکھو کتنی چھوٹی سی ہدایت تھی کہ وہ دس آدمی اس درہ پر بہر حال کھڑے رہیں لیکن اس کو نظر انداز کر دینے سے کتنا خوفناک نتیجہ نکلا۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی خاص