سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 318
سيرة النبي عمال 318 جلد 4 جس کو اپنے ماں باپ سے محبت نہیں ہوتی۔بے شک اس نے دس سال میری محبت کے پیچھے برباد کئے ہیں لیکن مجھ کو تو آپ کے سوا کوئی ماں باپ نظر نہیں آ تا5۔خیال کرو کہ آپ کو کس قدر انس تھا۔باپ روتا ہوا چلا جاتا ہے لیکن وہ آپ کی جدائی پسند نہیں کرتا۔پس یہ تھا آپ کی دیانت، امانت، صداقت، راستبازی کا حال۔آپ نے اعلانیہ فرمایا کہ اے لوگو! میں نے تم میں عمر گزاری ہے بتلاؤ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ تو کیا میں خدا پر ہی جھوٹ بولوں گا؟ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر سن کر فوراً ایمان لے آئے۔کہتے ہیں کہ جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق باہر گئے ہوئے تھے اور واپس آتے ہوئے راستہ میں اپنے ایک دوست کے مکان پر ٹھہرے اور آپ اپنی چادر بچھا کر لیٹنے ہی لگے تھے کہ اس گھر کی لونڈی نے آ کر کہا افسوس ! تمہارا دوست پاگل ہو گیا اور کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابوبکر فر ماتے ہیں کہ وہ لیٹے صلى الله بھی نہیں فوراً چادر سنبھال کر بیٹھ گئے اور رسول کریم ﷺ کے گھر پہنچے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ حضرت ابوبکر چونکہ آنحضرت ﷺ کے گہرے دوست تھے آپ کو یہ خیال تھا کہ کہیں ان کو ٹھوکر نہ لگ جائے آپ ان کو تسلی سے بتانا چاہتے تھے لیکن حضرت ابوبکر نے آپ کو قسم دے کر کہا کہ آپ صاف بتا ئیں۔آپ نے کہا درست ہے۔حضرت ابوبکر صدیق نے کہا پس آپ میرے ایمان کے گواہ رہیں اور کہنے لگے کہ آپ مجھ کو دلیلیں دے کر میرا ثواب کیوں کم کرتے ہیں؟۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔“ الازھار لذوات الخمار صفحه 303 ،305 مطبوعہ بار دوم ) 1: يونس : 17 2 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاوّل حديث حليمة عما رأته من الخير بعد تسلمها له ل لا لا لو صفحه 201 تا 203 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى صلى الله 3 السيرة الحلبية الجزء الاوّل وفاة عبد المطلب وكفالة عمه أبي طالب له عليه