سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 317
سيرة النبي عمال 317 جلد 4 صلى الله الله نہ تھی۔آپ کے مقابلہ میں خدیجہ بہت مالدار عورت تھی، کئی تو اُن کے غلام تھے، اُن کی تجارت کے قافلے دور دور جاتے ، اُن کی عادت تھی کہ اپنے غلاموں سے سب حالات دریافت کرتی رہتیں۔رسول کریم ﷺ آپ کے پاس نوکر ہو گئے اور ان کو ایک قافلہ کے ساتھ باہر بھیجا گیا۔جب واپس آئے تو بہت نفع ہوا۔انہوں نے جب آپ کی نسبت دریافت کیا تو غلاموں نے کہا کہ پہلے لوگ بہت سے نفعے خود رکھ لیتے تھے لیکن ہم نے ان کو بہت امین پایا ہے۔وہ آپ کی تعریف سن کر اس قدر متاثر ہوئیں کہ اپنے چا کو بلا کر پیغام شادی بھیجا۔رسول کریم ﷺ نے کہا کہ میرے چا سے پوچھ لو اگر وہ رضا مند ہوں تو پھر میں نکاح کرلوں گا۔پھر چچا کی رضا مندی سے اپنا نکاح حضرت خدیجہ سے کر لیا 4۔آپ کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں حضرت خدیجہ نے آپ کے اس جو ہر کو پہچان لیا اور حضرت خدیجہ نے اپنا تمام مال وزر آپ کے سپر د کر دیا۔جب حضرت خدیجہ نے کہا کہ یہ میرا تمام مال آپ کا ہے تو آپ نے فرمایا کہ خدیجہ سچ کہتی ہو؟ پھر جس طرح میرا اختیار ہے میں کروں؟ پس آپ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ جو غلام ہیں ان کو آزاد کر دو۔حضرت خدیجہ کے دل پر آپ کی نیکی کا اس قدر اثر تھا کہ انہوں نے کہا بے شک آپ کو اختیار ہے۔ان غلاموں میں ایک زیڈ بھی تھے یہ ایک بہت بڑے رئیس کے لڑکے تھے۔بچپن میں کوئی اُن کو پکڑ کر بیچ گیا تھا۔اُن کا باپ تمام جگہ اُن کی تلاش کرتا کرتا بہت سا روپیہ لے کر مکہ پہنچا اور کہا جس قدر آپ مال لینا چاہتے ہیں لے لیں اور لڑ کا ہمارے ساتھ کر دیں۔اس کی ماں دس سال سے روتی روتی اندھی ہو گئی ہے اور میں دس سال سے اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں جا کر کہا لوگو! گواہ رہو یہ آزاد ہے اور کہا کہ یہ تیرا باپ ہے اس کے ساتھ چلا جا۔دس سال سے اُس نے اپنا کاروبار چھوڑ کر تیری خاطر اپنی عمر کا ایک حصہ یوں برباد کیا ہے۔زیڈ نے کہا بے شک یہ میرا باپ ہے اور ایک مدت کے بعد ملا ہے اور اس نے میری خاطر بہت تکلیف اٹھائی ہے اور کون ہے