سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 316

سيرة النبي علي 316 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی دعوئی سے قبل کی زندگی 27 دسمبر 1936 ء کے خطاب میں آپ نے رسول کریم ﷺ کی دعوئی سے قبل کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے کہو کہ میں نے نبوت سے پہلے تم میں ایک عمر گزاری ہے اور تم اقرار کرتے ہو کہ میں نے بندوں پر کبھی جھوٹ نہیں بولا1 تو کیا جب میں رات کو سو یا صبح اٹھ کر خدا پر صلى الله جھوٹ بولنے لگ گیا ؟ رسول کریم ﷺ کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ حضرت خدیجہ جو مکہ میں سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں اور آپ کنگال اور آپ کے کنگال ہونے کا یہ ثبوت تھا کہ عرب کا دستور تھا کہ اپنے بچے باہر دائیوں کے پاس بھیج دیتے تھے تو اس سال جو دائیاں مکہ میں بچے لینے آئیں تو ہر دائی آپ کے لے جانے سے انکار کرتی رہی کیونکہ دائیاں جب بچے پال کر لاتیں تو اُن کو خوب انعام و اکرام ملتا۔اُن کو خیال تھا کہ یہاں سے ہم کو کیا ملے گا۔چنانچہ مائی حلیمہ بھی ایک دفعہ آپ کو دیکھ کر چھوڑ گئیں لیکن پھر جب شہر میں دوسرا کوئی بچہ نہ ملا تو پھر واپس آ کر وہی بچہ لے گئیں 2۔تو آپ کی مالی حالت یہ تھی کہ دایہ بھی نہ ملی تھی۔پھر جب والدہ فوت ہو گئیں تو اپنے چا کے پاس رہے۔گویا وہ تمام زمانہ بے کسی کی حالت میں گزارا۔چچا کے بچے کھانے پینے کے وقت شور و شر کرتے لیکن آپ آرام سے ایک طرف بیٹھے رہتے 3 کیونکہ چا کے لڑکے جانتے تھے کہ یہ تو ہمارے ٹکڑوں پر پل رہا ہے اصل مالک تو ہم ہیں۔اکثر آپ کے چا کہتے بچہ تو نہیں ہنستا کھیلتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچی کے دل میں بھی وہ محبت