سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 19
سيرة النبي علي 19 جلد 4 رسول کریم علیہ کا راہ مولیٰ میں مصائب اٹھانا د حضرت مصلح موعود نے 31 مارچ 1933 ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔پس ابتلا اور مصیبتیں مومن کا خاصہ ہیں اور ایمان کے جلا کے لئے ان چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔اگر ابتلاؤں، ٹھوکروں اور گالیوں سے بے عزتی ہوتی ہے تو ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ باللہ رسول کریم ﷺ کی بے عزتی ہوئی کیونکہ آپ کو گالیاں دی گئیں۔اتنی کہ کسی اور کو آج تک نہیں ملیں۔تکالیف پہنچائی گئیں اور اس قدر کہ کوئی شخص ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔دشمن ایک اوجھڑی اٹھا لائے جو غلاظت سے بھری ہوئی تھی اور آپ کے اوپر ڈال دی 1۔ایک دفعہ آپ کے گلے میں رسی ڈال کر کھینچا گیا اور کوشش کی گئی کہ آپ کا دم گھٹ ( الفضل 16 اپریل 1933ء ) جائے۔1 بخاری کتاب مناقب الانصار باب ما لقى النبي و اصحابه من المشركين بمكة صفحہ 646 حدیث نمبر 3854 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2: بخاری کتاب مناقب الانصار باب ما لقى النبى و اصحابه من المشركين بمكة صفحہ 647 حدیث نمبر 3856 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية