سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 315
سيرة النبي علي 315 جلد 4 دوسری قوم گمراہ ہو۔ہر چندا ابو بکر کمزور اور نرم مزاج آدمی تھے حضرت عمر جو تلوار لئے کھڑے تھے اُن کے پاس آئے اور کہا اے عمر! بیٹھ جاؤ لیکن حضرت عمرؓ جوش میں آکر پھر کھڑے ہو جاتے۔حضرت ابوبکر اُن کے اس جوش کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور یہ آیت پڑھی مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ 3 اے لوگو !۔محمد تو فوت ہو چکے ہیں۔جو کوئی سیدنا محمد کو پوجتا ہے وہ سن لے کہ خدا کبھی نہیں مرتا۔محمد خدا کے ایک رسول تھے اگر محمد فوت ہو جائیں تو کیا تم پھر جاؤ گے؟ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ آیت سنی ، میری یہ حالت تھی کہ میری ٹانگیں مجھ کو کھڑا نہیں کر سکتی تھیں اور مجھ کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ قرآن کریم میں یہ آیت آج ہی نازل ہو رہی الازهار لذوات الخمار صفحہ 298 299 مطبوعہ بار دوم ) 66 -44 1: النصر : 2 تا آخر صلى الله صلى الله 2 بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي علة باب قول النبي علي سدوا الابواب الا باب ابی بکر صفحہ 613 حدیث نمبر 3654 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3: ال عمران : 145 4: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانى مقالة عمر بعد وفاة الرسول عليه صفحه 1459 ،1460 مطبوعہ دمشق 2005 ءالطبعة الاولى