سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 300

سيرة النبي علي 300 جلد 4 فرمایا:۔رسول کریم علیہ کا دعوت الی اللہ کا طریق حضرت مصلح موعود نے 21 اکتوبر 1936ءکو مبلغین سے خطاب کرتے ہوئے مدینہ میں ایک منافق نے جب یہ بات کہی کہ مہاجرین نے یہاں آ کر فتنہ وفساد مچا دیا ہے تو اُس شخص کا لڑکا رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا مجھے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ میرے باپ نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کا سرکاٹ کر آپ کی خدمت میں لے آؤں تا ایسا نہ ہو آپ کسی اور شخص کے ذریعہ اُسے مروا دیں تو کسی مسلمان کے متعلق میرے دل میں برائی پیدا ہو جائے 1 تو تم سے پہلے لوگوں نے اس قسم کا نظارہ دکھایا ہے اور قربانی کی شاندار مثالیں پیش کی ہیں۔پس تمہیں بھی اگر سلسلہ کیلئے اس قسم کی غیرت کا مظاہرہ کرنا پڑے تو تمہیں اس قسم کی غیرت کے اظہار میں کسی قسم کا دریغ نہیں کرنا چاہئے۔چونکہ تم میں ایسے کئی بچے ہوں گے جو گیارہ سال کی عمر رکھتے ہوں گے یا گیارہ سال کے قریب قریب اُن کی عمر ہوگی اس لئے ممکن ہے تم کہو ہم اتنی چھوٹی عمر میں دین کیلئے کیا قربانی کر سکتے ہیں اس لئے میں تمہیں ایک گیارہ سالہ بچے کا واقعہ سناتا ہوں۔الله رسول کریم ﷺ نے جب دعوی نبوت کیا اور لوگوں نے آپ کی باتوں کو نہ مانا تو آپ نے یہ تجویز کی کہ ایک دعوت کی جائے جس میں مکہ کے رؤسا کو اکٹھا کیا جائے اور انہیں اسلام کی تبلیغ کی جائے۔چنانچہ اس کے مطابق ایک دعوت کا انتظام کیا گیا