سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 301
سيرة النبي عمال 301 جلد 4 جس میں مکہ کے رؤسا اکٹھے ہوئے مگر جب کھانا کھانے کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو بعض باتیں سنانی چاہتا ہوں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں فرصت نہیں اور صلى الله سب ایک ایک کر کے اٹھ گئے۔اس پر رسول کریم علیہ نے دوبارہ ایک دعوت کا انتظام کیا اور اب کی دفعہ یہ تجویز فرمایا کہ پہلے ہم انہیں اپنی باتیں سنائیں گے اور بعد میں دعوت کھلائیں گے۔چنانچہ رو سا آئے اور بیٹھ رہے۔رسول کریم ﷺ نے اُس وقت ایک وعظ کیا جس میں اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے فرمایا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت آئی ہے اور اُس کو پھیلانا میرا فرض ہے۔کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ہے جو اس انعام کا حصہ دار بنے اور کیا آپ لوگوں میں سے کوئی سعید روح ہے جو میرا ہاتھ بٹائے ؟ ان رؤسا نے جب یہ سنا تو خاموش رہے۔مگر ایک گیارہ سال کا بچہ بھی وہیں بیٹھا تھا اُس نے اپنے دائیں بھی دیکھا تو رؤسا کو خاموش پایا، پھر اُس نے اپنے بائیں دیکھا تو اس طرف کے رؤسا کے منہ پر بھی اس نے مہر سکوت دیکھی۔اس نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آواز آئی اور دنیا میں سے کسی نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی آواز بغیر کسی جواب کے رہے۔وہ ایک چھوٹا بچہ تھا مگر اس نظارہ کو دیکھ کر وہ برداشت نہ کر سکا وہ کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! میں اپنے آپ کو اس خدمت کیلئے پیش کرتا ہوں اور اس الله تعلیم کے پھیلانے میں میں آپ کی مدد کروں گا۔رسول کریم ﷺ نے اُسے بچہ سمجھتے ہوئے اُس کی بات کی طرف زیادہ توجہ نہ کی اور پھر انہیں ترغیب دی تا ان میں سے کوئی شخص مدد کیلئے اٹھے۔آپ نے پھر اُن مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی۔پھر اسلام کے متعلق تقریر کی اور جب اپنی تقریر کو ختم کر چکے تو آپ نے پھر فرمایا کیا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی آواز کو پھیلانے میں میری مدد کرے؟ پھر وہ تمام لوگ ساکت رہے اور پھر اس گیارہ سالہ بچہ نے دیکھا کہ مجلس میں کامل خاموشی ہے اور کوئی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کیلئے تیار نہیں اس لئے پھر اس کی غیرت نے