سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 299

سيرة النبي علي 299 جلد 4 قربانی کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کی اشاعت میں میں کسی فرق اور امتیاز کو روا نہیں رکھ سکتا۔اے چچا ! آپ کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے اور آپ کا دکھ مجھے دکھ دیتا ہے لیکن اس معاملہ میں اگر آپ کی قوم آپ کی مخالفت کرتی ہے اور آپ میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجھے چھوڑ دیجئے۔باقی رہی نرمی کرنی سو خدا کی قسم ! اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر رکھ دے تو میں اُس تعلیم کے پھیلانے میں کسی قسم کی کمی نہیں کروں گا جو خدا نے میرے سپرد کی ہے 3۔کتنی مایوسی کی گھڑیوں میں رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک بات پیش کی گئی اور کس رنگ میں آپ سے ایک مطالبہ کیا گیا مگر رسول کریم ﷺ نے کتنا شاندار جواب دیا کہ معمولی حالات نہیں اگر کفار زمین و آسمان میں بھی تغیر پیدا کر دیں اور حالات ان کے ایسے موافق ہو جائیں کہ سورج پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے اور نہ صرف مکہ میں یہ مجھے پناہ نہ لینے دیں بلکہ آسمان کے ستارے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور یہ سب مل کر مجھے کچلنے اور مجھے تباہ و برباد کرنے کیلئے اکٹھے ہو جائیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کے حکم کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔یہ وہ ایمان تھا کہ جب محمد اللہ سے اس کا خدا تعالیٰ نے مظاہرہ کرایا تو اس کے بعد آپ کو حکم دیا کہ جاؤ ایک نئی زمین ہم نے تمہارے لئے تیار کر دی ہے اُس میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤ۔وہ زمین مدینہ تھی جہاں خدا تعالیٰ نے ایک ایسی جماعت کھڑی کر دی جس نے اسلام کیلئے اپنے آپ کو قربانیوں کیلئے پیش کیا اور اپنے دعوئی کو نباہا۔یہ چیز ہے جس کی اس وقت بھی ضرورت ہے۔(الفضل 22، 23 فروری 1961ء) 66 :1 مسلم كتاب العلم باب من سن سنة حسنة صفحه 1165 حدیث نمبر 6800 مطبوعہ ریاض 2000 الطبعة الثانية 2: الاحزاب :۔22: صلى الله 3 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول وفد قريش مع ابى طالب في شأن الرسول عليه صفحہ 312،311 مطبوعہ دمشق 2005ء الطبعة الاولى