سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 298

سيرة النبي علي 298 جلد 4 اگر وہ اس بات کو منظور کرے کہ ہمارے بتوں کو گالیاں نہ دے تو ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ نہ مانے اور آپ بھی اس سے اپنا تعلق منقطع نہ کریں تو پھر آپ سے بھی الله ہمارے تعلقات جاتے رہیں گے۔رسول کریم ﷺ کے چچا جن کا اس واقعہ میں میں ذکر کر رہا ہوں ان کا نام ابو طالب تھا۔انہوں نے آپ کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے تیری خاطر اپنی قوم سے لڑائی کی ، پھر تجھ کو معلوم ہے کہ تیری تعلیم سے تیری قوم کتنی متنفر اور کس قدر بیزار ہے، آج اس قوم کے بہت سے معزز افراد مل کر میرے پاس آئے تھے اور وہ کہتے تھے کہ تو صرف اتنی سی نرمی کر دے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال چھوڑ دے اگر تو اس بات کیلئے تیار نہ ہو تو پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ابو طالب سے بھی اپنے تعلقات منقطع کر لیں گے۔تجھ کو معلوم ہے کہ میں اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ اپنے تعلقات اس سے منقطع کر سکتا ہوں۔پس کیا تو میری خاطر اپنی تعلیم میں اتنی معمولی سی کمی نہیں کرے گا ؟ یہ مطالبہ ایسے منہ سے نکلا تھا کہ یقیناً دنیوی لحاظ سے اس کا رد کرنا نہایت مشکل تھا۔ہمارے مبلغ جو مغرب میں تبلیغ اسلام کیلئے جاتے ہیں ان کے سامنے اس قسم کی جذباتی تقریر کرنے والا کوئی نہیں الله ہوتا ، پس ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اُس وقت رسول کریم ﷺ کے کیا جذبات تھے۔ایک طرف آپ کا یہ عقدِ ہمت تھا کہ زمین و آسمان مل سکتے ہیں مگر میں وہ تعلیم نہیں چھوڑ سکتا جس کی اشاعت کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے میں مبعوث کیا گیا ہوں۔اور دوسری طرف ابو طالب جو آپ کا نہایت محسن اور آپ کا چچا تھا اُس کے جذبات آپ کے سامنے تھے اور آپ چاہتے تھے کہ اس کے اُن احسانوں کا جو اُس نے آپ پر کئے اور اُن قربانیوں کا جو اُس نے آپ کی خاطر کیں کسی نہ کسی صورت میں بدلہ دیں لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مقابلہ میں بندوں کا احسان کیا حقیقت رکھتا ہے کہ اُس کی طرف توجہ کی جاتی۔ان جذبات کے تلاطم نے رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہا دیئے اور آپ نے اپنے چچا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا میرے چا! میں آپ کیلئے ہر