سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 297

سيرة النبي عليه 297 جلد 4 صلى الله رسول کریم ع مایوس نہ ہوئے۔تب اسی حالت میں مکہ کے لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بعض باتوں میں نرمی کر دیں تو ہم ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) شرک کریں، ہم یہ نہیں کہتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنا مذہب چھوڑ دیں، ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال نہ کریں اور ان کی تحقیر اور تذلیل نہ کریں۔کیا یہی وہ چیز نہیں جو مغرب میں ہمارے مبلغین کے سامنے پیش کی جاتی ہے؟ مگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کیا جواب دیا؟ باوجود اس کے کہ گیارہ سال کی لمبی مایوسی کے بعد امید کی جھلک دکھائی دی تھی، گیارہ سال کی لمبی تاریکی کے بعد روشنی کی ایک شعاع نکلی تھی اور کفار صرف اتنی سی بات پر آپ سے ملنے کیلئے تیار تھے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کہنا اور انہیں برا بھلا کہنا چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس سے ان کی ہتک ہوتی ہے اور باوجود اس کے کہ اس تجویز کے پیش کرنے کیلئے انہوں نے ذریعہ بھی وہ اختیار کیا جو ہمارے مبلغوں کے سامنے پیش نہیں ہوتا۔وہ ایک ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سب سے زیادہ محسن ہے۔محمد ﷺ کی بچپن کی زندگی کے لمحات اس کے ممنونِ احسان ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ایک معتد بہ حصہ اس کے گھر الله سے کھائی ہوئی روٹیوں سے غذا حاصل کرتا رہا ہے اور محمد ﷺ کا جسم سالہا سال تک اس کے دیئے ہوئے کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانکتا رہا ہے۔پھر نبوت کے زمانہ میں باوجود اس کے کہ مذہبی طور پر وہ محمد علے سے متفق نہ ہوا ہر تکلیف میں وہ آپ کا ساتھ دیتا اور ہر مشکل میں وہ آپ کا ہاتھ بٹاتا۔محمد علیہ کے ایسے محسن کے پاس وہ لوگ جاتے اور اسے کہتے ہیں کہ اب تک تو تم نے یہ خطر ناک غلطی کی کہ تم محمد ﷺ کا ساتھ دیتے رہے اور اپنی قوم کی جڑیں کٹوانے میں تم اس کی مدد کرتے رہے مگر اب ہم اس کی باتوں کی برداشت نہیں کر سکتے ، ہم اس بات کیلئے بالکل تیار ہیں کہ اس کے ساتھ مل جائیں مگر یہ ہم سے نہیں دیکھا جاتا کہ وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دے۔پس صلى الله الله