سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 291

سيرة النبي علي 291 جلد 4 وو بیعت رضوان حضرت مصلح موعود نے 19 اکتوبر 1936 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔صلى الله رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے ایک بیعت رضوان لی تھی جو ایک بیری کے درخت کے نیچے لی گئی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے حضرت عثمان کو صلح کا پیغام دے کر مکہ بھیجا تھا وہاں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کو ٹھہرالیا اور یوں مصالحت کی باتیں بھی لمبی ہو گئیں اس لئے جس وقت تک ان کی واپسی کا اندازہ تھا (ضمناً میں حضرت عثمان کے اخلاص کا ذکر بھی کر دیتا ہوں۔حضرت عثمان جب مکہ میں گئے تو ان کے دوستوں نے کہا کہ اب آپ آتو گئے ہیں عمرہ کر لیں۔انہوں نے جواب صلى الله دیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہاری فوجیں رسول کریم ﷺ کو تو باہر روکے ہوئے ہوں اور میں عمرہ کرلوں۔میں اگر کروں گا تو آپ کے ساتھ کروں گا ورنہ نہیں ) تو اُدھر ان کی واپسی میں دیر ہوئی اور ادھر بعض شرارت پسندوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عثمان قتل کر دیئے گئے ہیں اور منافقوں نے جھٹ یہ خبر پھیلا دی تا رسول کریم ﷺ جوش میں آکر حملہ کر دیں۔مگر آپ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے حملہ تو نہ کیا مگر چونکہ ہوشیار رہنا ضروری تھا آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں تم سے بیعت لینا چاہتا ہوں۔یہ بیعت اسلام کی بیعت کے علاوہ ہوگی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمان جو میرے ایلچی تھے شہید ہو گئے ہیں تو ہم ان کے قاتلوں سے جنگ کریں گے اور آپ لوگوں میں سے جو چاہیں میرے ہاتھ پر اس وقت بیعت کریں کہ اگر ایسی جنگ ہمیں کرنی پڑی تو وہ میدانِ جنگ سے بھاگے گا نہیں بلکہ فتح کے بغیر لوٹے گا نہیں