سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 292
سيرة النبي علي 292 جلد 4 اس بیعت کو بیعت رضوان کے علاوہ موت کی بیعت بھی کہتے ہیں ) صحابہ آئے اور بیعت کیلئے ایک دوسرے پر گرنے لگے حتی کہ بعض کو تو اتنا جوش تھا کہ وہ تلوار سے دوسرے کو پیچھے ہٹا کر خود بیعت کیلئے آگے بڑھنا چاہتے تھے 1۔اتفاقاً حضرت عمرؓ اس وقت کہیں اِدھر اُدھر ہو گئے تھے لیکن ان کے لڑکے عبداللہ بن عمرؓ موجود تھے انہوں نے ہوا خود ایک موقع پر بیان کیا کہ ایک نیکی میں اگر میں چاہتا تو اپنے باپ سے آگے بڑھ جاتا اور وہ موقع بیعت رضوان کا تھا۔جب یہ بیعت شروع ہوئی تو میں نے اِدھر اُدھر دیکھا حضرت عمر وہاں موجود نہ تھے میں ان کی تلاش میں چلا گیا اور جب تلاش کر کے لا یا تو اُس وقت بہت سے لوگ بیعت کر چکے تھے میں اگر اپنے باپ کو شریک کرنے کی کوشش نہ کرتا تو سابقون میں ہوتا۔“ (الفضل 16 اکتوبر 1936ء) 1: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانى عثمان رسول محمد الى قريش صفحه 1105 ، 1106 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى