سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 290

سيرة النبي عمر 290 جلد 4 کے خلاف سمجھی جاتی ہے حالانکہ صحابہ میں ہمیں یہ بات دکھائی دیتی ہے بلکہ صحابہ تو الگ الله رہے خود رسول کریم عملے کے گھروں میں بعض اشعار گائے جاتے کیونکہ رسول کریم صلى الله نے جہاں مزامیر سے روکا ہے وہاں گانے یا بعض قسم کے باجوں کی اجازت بھی دی ہے۔چنانچہ شریفانہ اشعار کا رسول کریم ﷺ کے گھروں میں پڑھا جانا ثابت ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض عورتوں سے گانا سن رہی ہیں۔وہ پیشہ ور گانے والی عورتیں نہیں تھیں جنہیں اسلام نے ناپسند کیا بلکہ محلہ کے معزز گھرانوں کی بہو بیٹیاں یا بیویاں تھیں اور وہ بعض دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آکر گاتی تھیں۔رسول کریم ﷺ نے ان کے فعل کو نا پسند نہیں کیا بلکہ ایک دفعہ عورتوں کے گانے کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ پر ناراضگی کا اظہار کیا تو رسول کریم ہم نے انہیں منع کیا اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں 1۔مگر آج کسی گھر میں کوئی شریف عورت گا تو جائے تم دیکھ لو گے کہ باوجود حدیثیں پڑھنے کے ، باوجود تاریخی واقعات سے آگاہی رکھنے کے گھر گھر یہ چرچا ہوتا ہے کہ نہیں کہ فلاں عورت تو بڑی بری ہے وہ تو خوش الحانی سے شعر پڑھتی ہے۔گویا لوگ اب صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ میراثنیں اور ڈومنیاں ہی گا سکتی ہیں شرفاء کا حق نہیں کہ وہ گائیں۔مگر ہندوستان سے باہر نکل کر انگلستان چلے جائیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ معزز سے معزز گھرانوں کی عورتیں گاتی ہیں، جرمنی چلے جائیں تو وہاں بھی یہی نظر آتا ہے، فرانس چلے جائیں تو وہاں بھی یہی دکھائی دیتا ہے اور پھر شریعت پر غور کرنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے اس قسم کے گانے سے منع نہیں کیا۔“ ( الفضل 10 اکتوبر 1936ء) 1:بخارى كتاب العيدين باب الحراب والدّرق يوم العيد حديث نمبر 949 صفحہ 153 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية عروسة