سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 289
سيرة النبي علي 289 جلد 4 رسول کریم ﷺ کے طرز عمل سے وقار کا مفہوم وو حضرت مصلح موعود نے 2 اکتوبر 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔رسول کریم علیہ کی ساری اولاد ہی عزت کے قابل ہے۔اگر آپ نے اپنی ایک بیوہ بیٹی کی بھی شادی کی ہے تو دوسری بیٹی کی نسل میں سے کوئی شخص اپنی بیوہ بہن یا لڑکی کی شادی کیوں نہیں کر سکتا مگر میرا یہ جواب ان کی سمجھ میں نہ آیا اور وہ یہی کہتے رہے کہ یہ ہتک ہے میں اسے کس طرح برداشت کر سکتا ہوں۔اب یہ موجودہ زمانہ کے بڑے خاندانوں میں وقار کے خلاف بات سمجھی جاتی ہے کہ ان میں سے کوئی اپنی کسی عزیزہ کی دوبارہ شادی کر دے مگر رسول کریم ﷺ کو اس میں کوئی بات وقار کے خلاف نظر نہیں آتی تھی۔اسی طرح اور ہزاروں باتیں ہیں جو عرب میں اُس وقت رائج تھیں مگر آج ہمارے زمانہ میں اگر وہی باتیں کی جائیں تو سب لوگ انہیں وقار کے خلاف سمجھنے لگ جائیں۔اس کی وضاحت کیلئے ایک اور مثال بھی دے دیتا ہوں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ بڑے بڑے صحابہ جب جنگ میں جاتے تو اشعار پڑھتے۔رسول کریم می ان کے شعر سنتے اور انہیں داد دیتے لیکن ہمارے زمانہ میں اگر کوئی معز شخص شعر پڑھنے لگ جائے تو سب کہنے لگ جائیں گے کہ یہ وقار کے خلاف بات ہے حالانکہ تاریخ سے صاف طور پر نظر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جب کسی جنگ پر تشریف لے جاتے تو صحابہ ایسے اشعار پڑھتے جن میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دینے کی ترغیب دی جاتی اور رسول کریم مع صحابہ کے ایسے اشعار سن کر اُن کی تعریف کرتے اور کوئی شخص اسے وقار کے خلاف نہ سمجھتا۔لیکن اس زمانہ میں وہی بات وقار