سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 283

سيرة النبي عليه 283 جلد 4 اور بھی ہزاروں شرک کی باتیں حضور نے لوگوں کو دکھائیں کہ وہ ان سے پر ہیز کریں لیکن یہی باتیں اس زمانہ کے مشہور علماء اور فقہاء کی نظر سے اب تک اوجھل ہیں۔اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آنحضرت علی کے وجود مبارک میں محو نہیں ہوئے اس لئے اس نعمت سے محروم رہے اور حضرت مسیح موعود نے ہی اس زمانہ کے لوگوں کو لا الہ الا الله کا جلوہ دکھلایا اور یہی تو ایک چیز ہے جو اسلام کا لب لباب ہے اور جس کا ہر کامل موحد میں پایا جانا ضروری ہے۔اس کے علاوہ باقی تفصیلات ہیں اور وہ مختلف آدمیوں کیلئے مختلف شکلوں میں بدلتی چلی جاتی ہیں۔جیسے کہ ایک شخص آنحضرت علی کے حضور حاضر ہوا اور عرض کی يَارَسُولَ اللهِ! مجھے سب سے بڑی نیکی بتائیں۔حضور نے فرمایا ماں کی خدمت کیا کر 5۔اس کے بعد کسی اور موقع پر ایک اور شخص آیا اور اس نے عرض کی کہ يَارَسُوْلَ اللهِ ! مجھے سب سے بڑی نیکی بتائیں۔حضور نے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ کیا کر 6۔ایک اور شخص نے سب سے بڑی نیکی دریافت کی تو حضور نے اُس کو تہجد بتلائی 2۔نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور نے متضاد باتیں بتلائیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں میں تضاد قطعاً نہیں بلکہ وہ تینوں اشخاص تین مختلف امراض میں مبتلا تھے۔پس اُن کے علاج بھی مختلف ہی ہونے چاہئے تھے۔ایک کو ماں کی خدمت نہ کرنے کی مرض تھی حضور نے اُس کیلئے سب سے بڑی نیکی ماں کی خدمت قرار دی۔دوسرا شخص جہاد فی سبیل اللہ میں ست تھا اُس کو جہاد فی سبیل اللہ سب سے بڑی نیکی بتلائی گئی اور تیسرا شخص تہجد کی ادائیگی میں کمزور تھا اُس کو آنحضرت ﷺ نے یہ فرما دیا کہ تیرے لئے سب سے بڑی نیکی تہجد ہی ہے کیونکہ تو اس سے محروم ہے۔صلى الله الغرض تفصیلات ہر انسان کیلئے بدلتی رہتی ہیں مگر لا اله الا الله سب کیلئے یکساں ہے یہ ہر گز نہیں بدلتا۔کسی کو سورۃ بقرۃ فائدہ دیتی ہے، کسی کو آل عمران ، کسی کو کوئی اور سورۃ یا آیت۔مگر لا الہ الا اللہ سب کو یکساں طور پر فائدہ پہنچاتا ہے گویا قرآن کریم