سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 280
سيرة النبي عمال 280 جلد 4 تعلقات اور بندہ کے خدا تعالیٰ سے تعلقات توحید کے اندر آ جاتے ہیں۔تو حید کے معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور جس طرح سورج بغیر آنکھ کے نظر نہیں آسکتا اسی طرح صلى الله اللہ تعالیٰ بھی ایک خاص آنکھ کے بغیر نظر نہیں آسکتا اور وہ آنکھ آنحضرت عیہ ہیں ان کے ذریعہ سے ہی لا إِلهَ إِلَّا الله دنیا کو نظر آ سکتا ہے اور اسی حکمت کی وجہ سے لا الہ الا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صلى الله آنحضرت ﷺ کے بغیر توحید کا سمجھنا ہی محال ہے۔گویا آنحضرت ﷺ ہی ایسی دور بین ہیں جس سے تو حید دیکھی جاسکتی ہے۔پس یہ لا WATAN ANLA اللہ ایسی آیت ہے کہ اس میں بقرة، آل عمران، نساء وغیرہ سب سورتیں شامل ہیں اور اَلْحَمْدُ سے لے کر وَالنَّاسِ تک کا کوئی مضمون اس سے باہر نہیں۔لیکن تو حید ایسی بار یک چیز ہے کہ اس کو ہر ایک نظر نہیں دیکھ سکتی۔ہاں ایک عینک ہے کہ اگر اس کو انسان اپنی آنکھوں پر لگالے تو وہ تو حید نظر آنے لگتی ہے اور وہ عینک آنحضرت ﷺ کا وجو د مبارک ہے اور اس میں کون شبہ کرسکتا ہے کہ آنحضرت کے آنے سے ہی دنیا میں توحید قائم ہوئی ورنہ آپ کی بعثت سے قبل تو بعض لوگوں نے حضرت عزیز، بعض نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنا رکھا تھا، بعض لوگ ملائکہ کو معبود بنائے بیٹھے تھے اور ایسے خطر ناک زمانہ میں جس میں گویا سب کی آنکھیں کمزور ہو رہی تھیں صرف آنحضرت ﷺ کی عینک لگانے سے ہی لوگوں کو توحید نظر آئی۔آنحضرت سے قبل اور حضور کے زمانہ میں لاکھوں فلاسفر موجود تھے لیکن کسی کو تو حید کے علم کو بلند کرنے کا موقع نہ ملا بلکہ اس کے برعکس فلسفیوں نے جو کچھ پیش کیا وہ شرک سے پر تھا پس حقیقت یہی ہے کہ : ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده محض خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے ہی دنیا میں