سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 279
سيرة النبي علي 279 جلد 4 کے زمانہ کا ظل ہے اور اس زمانہ میں بھی ہر قسم کی خرابیاں بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں اس لئے آج مذہب کی بھی ضرورت ہے ، اخلاق کی تمام اقسام کی بھی ضرورت ہے، دنیا کی ہر خوبی اور ترقی کی بھی ضرورت ہے۔جہاں لوگوں کے دلوں سے خدا تعالیٰ پر ایمان اٹھ گیا ہے وہاں اخلاق فاضلہ بھی اٹھ گئے ہیں اور حقیقی دنیوی ترقی بھی مٹ گئی ہے کیونکہ اس وقت جسے لوگ ترقی کہتے ہیں وہ نفسانیت کا ایک مظاہرہ ہے اور دنیا کی ترقی نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس سے ایک حصہ دنیا فائدہ اٹھا رہا ہے اور دوسرے کو غلام بنایا جا رہا ہے۔پس ایسے وقت میں ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی فلاں آیت پر ہمیں خاص طور پر عمل کرنا چاہئے اور فلاں کی طرف کم توجہ کی ضرورت ہے۔نہیں بلکہ قرآن مجید کی ہر آیت ہی اس قابل ہے کہ انسان اس کو اپنا مطمح نظر اور نصب العین بنائے خصوصاً اس زمانہ میں کہ ہر آیت ہی کی طرف سے لوگوں کو بے رغبتی ہے مگر ایسے دن نہ بھی ہوں تب بھی قرآن مجید کی کسی آیت کا چن لینا انسان کیلئے ناممکن ہے کیونکہ اس کی ہر ایک آیت بے شمار خوبیوں کی جامع ہے اور ہر آیت پر انسان یہ خیال کر کے کہ اس سے بڑھ کر بھلا اور کون سی آیت ہوگی حیرت میں پڑ کر وہیں کھڑا کا کھڑا رہ جاتا ہے۔پس اس صورت میں کہ قرآن مجید کی ایک ایک آیت تمام خوبیوں کی جامع ہے ہم کسی آیت کو اپنا مائو قرار دیں اور کس کو اپنا ماٹو قرار نہ دیں جبکہ ان میں سے ہر ایک ہی ہمارا ماٹو ہے تو ترجیح کی کیا وجہ ہے؟ ہم کو تو اب خود کسی ماٹو کے تجویز کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے سارے قرآن مجید کو ماٹو مقرر کر دیا ہے لیکن اگر ایک مختصر ماٹو ہی کی ضرورت ہو تو وہ بھی رسول کریم ﷺ نے ہمارے لئے تجویز کر دیا ہے اور وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔یہ جملہ در حقیقت قرآن کریم سے ہی اخذ کیا گیا ہے اور قرآن مجید کے سب مضامین کا حامل ہے۔گویا یہ تمام قرآن مجید کا خلاصہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تمام تعلیمیں اور تمام اعلیٰ مقاصد توحید کے ساتھ ہی تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح بندوں کے آپس کے