سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 278

سيرة النبي عمال 278 جلد 4 کس قدر وسیع مذہب ہے لیکن ہمارے مذہب میں یہ بات ہرگز موجود نہیں۔اس واقعہ کو مدنظر رکھو تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کسی ایک بات کو بطور ماٹو چننا درست نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کی تو ہر بات ہی ایسی ہے جو ماٹو بنانے کے قابل ہے۔پس فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ بھی ایک نہایت عمدہ ماٹو ہے اسی طرح یہ ماٹو کہ ” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بھی بہت عمدہ ہے اور اس کی طرف بھی قرآن مجید میں اشارہ موجود ہے اور وہ اس آیت میں ہے کہ بل تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَ اَبقی 2 یعنی نادان لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ آخرت یعنی دین کی زندگی کا نتیجہ دنیوی زندگی سے اعلیٰ اور دیر پا ہے۔پس اسے دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ هَذَا لَفِی الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَ موسی 3۔یہ تعلیم ہم آج نہیں دے رہے یہ تعلیم سب انبیاء دیتے چلے آئے ہیں چنانچہ موشی اور ابراہیم کی وحیوں میں بھی اس پر زور دیا گیا تھا۔قرآن مجید کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اس مضمون کو ادا کرتی ہیں۔پس یہ اعلیٰ تعلیم ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی وہ کون سی تعلیم ہے جو ماٹو نہ بن سکے۔میں تو اس کے جس حکم پر نظر ڈالتا ہوں وہی جاذب توجہ نظر آتا ہے اور دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ میں اپنے محبوب کے جس حصے پر نگاہ ڈالتا ہوں کرشمہ دامن دل می کشد که جا اینجاست یعنی محبوب کے چہرہ کا ہر حصہ کہتا ہے کہ بس خوبصورتی کا مقام اگر کوئی دنیا میں ہے تو یہی ہے بس تو یہیں ٹھہر جا۔اس تمہید کے بعد یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی بعثت کا زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ 4 کا مصداق تھا۔دنیا کی کوئی چیز ایسی نہ رہی تھی جس میں خرابی نہ آگئی ہو اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت کے نفل اور بروز ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ بھی آنحضرت صلى الله