سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 277

سيرة النبي عمال 277 جلد 4 کسی قوم کو دلچسپی ہوتی ہے وہ اسی کو اپنا مائو قرار دے کر اس کو اختیار کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتی ہے اور اس کوشش کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ باقی کاموں سے اس قوم کو نفرت ہے بلکہ صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کام کی طرف اس قوم کا زیادہ میلان ہے۔اس لحاظ سے کوئی بھی اچھا ماٹو کوئی قوم رکھے وہ اُس کیلئے نیکی ہوگا۔اور بعض ماٹو ایسے بھی ہیں جو آپس میں اشتراک رکھتے ہیں مثلاً یہ ماٹو کہ خدا کی اطاعت کرو اور یہ ماٹو کہ نیکیوں میں ترقی کرو در حقیقت ایک ہی ہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ خدا کی اطاعت کے بغیر نیکیوں کا حصول محال ہے اور اسی طرح جو شخص نیک ہی نہیں وہ خدا تعالیٰ کا مطیع کس طرح ہو سکتا ہے۔اسی طرح یہ ماٹو کہ ” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور یہ ماٹو کہ ”میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کروں گا دونوں گو ایک نہ ہوں مگر آپس میں بہت مشابہ ہیں اور دونوں ایک حد تک ایک دوسرے کے اندر آجاتے ہیں۔پس یہ ساری نیکیاں ہی اچھی ہیں اور ہم کو ان کے حصول کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔دوران لیکن جب میں نے ماٹو کے بارہ میں یہ مضامین الفضل میں پڑھے تو مجھے ایک یہودی کا قصہ یاد آ گیا کہ ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے باتیں کر رہا تھا کہ ن گفتگو میں کہنے لگا ہم تو آپ لوگوں سے سخت حسد رکھتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہم پر کس بات کا حسد آتا ہے؟ وہ یہودی کہنے لگا کہ مجھے اس بات کا حسد ہے کہ آپ کے اسلام میں یہ ایک خاص خوبی ہے کہ دنیا کی کوئی بات ایسی نہیں جس کے بارہ میں آپ کے اسلام کے اندرا حکام موجود نہ ہوں حتی کہ آپ کے اسلام نے تو پاخانہ اور پیشاب کرنے اور کھانا کھانے اور پانی پینے تک کیلئے بھی احکام بتلا دیئے ہیں کہ فلاں فلاں کام کرو تو اس طور پر کرو، اسی طرح شادی بیاہ کے بارہ میں بتلا دیا کہ اس طرح پر کرو غرضیکہ کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کے بارہ میں اسلام کے اندر احکام اور مسائل موجود نہ ہوں۔ہم کو آپ کے مذہب پر اس بات کا حسد ہے کہ یہ