سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 15

سيرة النبي علي 15 جلد 4 رسول کریم علیہ کے صبر کا نمونہ صلى الله حضرت مصلح موعود 17 مارچ 1933 ء کو لاہور میں خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔اگر ہماری جان بھی دشمن لے لیتا ہے تو یہ کون سی بڑی بات ہے۔بلکہ یہ تو خوشی کی بات ہے کہ ہمارا مولیٰ جو دور تھا موت کے بعد ہمارے قریب ہو گیا۔یا اگر ہمارے عزیز اور رشتہ دار دین کے راستہ میں مارے جاتے ہیں تو یہ سب چیزیں بھی خدا ہی کی ہیں ہمارا ان پر کیا حق ہے۔دیکھ لو رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بچے بھی دیئے اور پھر اس نے اٹھا بھی لئے۔ایک دفعہ آپ قبرستان کے قریب سے گزررہے تھے کہ ایک بڑھیا اپنے بچے کی قبر پر رو رہی تھی۔آپ نے فرمایا اے عورت! صبر کر۔وہ کہنے لگی اگر تیرا بچہ مرتا تو تجھے پتہ لگتا کہ کتنا درد ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا اے بی بی ! میرے گیارہ بچے مر چکے ہیں۔اتنا کہہ کر آپ وہاں سے چلے آئے۔بعد میں کسی نے اسے بتایا کہ بد بخت یہ تو رسول اللہ ہے تھے۔وہ یہ سنتے ہی دوڑتی ہوئی آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے صبر کیا۔آپ نے فرمایا صبر تو وہ ہے جو شروع میں کیا جائے 66 ور نہ رو دھو کر تو سب کو صبر آ جاتا ہے 1۔“ ( الفضل 23 مارچ 1933 ء ) 1: بخاری کتاب الجنائز باب زيارة القبور صفحہ 205 حدیث نمبر 1283 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية