سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 268

سيرة النبي عمال 268 جلد 4 ہوگئی۔پھر وہ سینکڑوں صحابہ جو آنحضرت عیہ کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز تھے اور جن میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جب ان میں سے ایک کو مکہ میں کفار نے پکڑا اور قتل کرنے لگے تو کہا کہ کیا تم یہ پسند نہ کرو گے کہ اس وقت تمہاری جگہ محمد ﷺ ہوں اور تم صلى الله آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہو؟ تو اُس نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں تو آرام سے گھر میں بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں کانٹا بھی چھے 2۔ایسے عزیز صحابہ کے ناک پاؤں اور ہاتھ کاٹ کاٹ کر انہیں مارا گیا اور اُن کی روحیں اُس وقت آنحضرت عے کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ یہ لوگ ہمارے قاتل ہیں مگر باوجود ان سب جذبات کے آنحضرت ﷺ نے کہا تو یہ کہا کہ لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ جاؤ آج تم سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی 10۔پس غور کرو کیا ان سے زیادہ تکالیف ہمیں دی جاتی ہیں؟ میں جانتا ہوں کہ بعض چیزیں جسمانی اذیت سے زیادہ ہوتی ہیں مگر یہ محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی تھیں اور ان میں بھی صحابہ ہمارے شریک ہیں۔رسول کریم ﷺ کی ذات پر بھی ایسے حملے کئے جاتے تھے اور ایسی گالیاں دی جاتی تھیں جیسی آج دی جاتی ہیں۔یہ ممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ ہمارے دشمن گالیاں دینے میں زیادہ ہوشیار ہیں اور ان کی فطرت زیادہ گندی ہے اور کفار عرب کی شرافت سے یہ لوگ نا آشنا ہیں مگر یہ نہیں کہ اُس زمانہ میں گالیاں وغیرہ بالکل دی ہی نہیں جاتی تھیں۔اس زمانہ میں بھی رسول اللہ علیہ کے گھر کی مستورات کے متعلق ویسے ہی گندے اتہام لگائے جاتے تھے جیسے آج لگائے جاتے ہیں اور عرب کے شاعر شعروں میں ان کے ساتھ محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔پس یہ ممکن ہے کہ آج کل کے لوگ اس خباثت میں ان سے زیادہ ہوں مگر جسمانی تکالیف صحابہ کو ہم سے بہت زیادہ تھیں۔اُس زمانہ میں ساری حکومت اسلام کے مخالف تھی مگر آج ساری نہیں۔آج گورنمنٹ بحیثیت گورنمنٹ ہمارے مقابل پر نہیں بلکہ بعض حکام ہمارے خیر خواہ بھی ہیں اور بعض اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر