سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 267

سيرة النبي علي 267 جلد 4 نے بجائے اُن کو سزا دینے کے خود اُن ہی سے دریافت کیا کہ اے مکہ کے رہنے والو! بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے آگے سے جواب دیا کہ وہی جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔آپ نے فرمایا جاؤ میں نے تم کو معاف کیا۔تم مجھے یوسف سے کم رحم کرنے والا نہیں پاؤ گے اور سب کو معاف کر دیا۔یوسف کے بھائیوں نے انہیں صرف جلا وطن کیا تھا مگر رسول کریم علیہ پر کفار کے مظالم کے مقابلہ میں جلا وطن کرنا کچھ چیز نہیں۔یہاں جلا وطنی تو ہزاروں ظلموں میں سے ایک ظلم تھی۔پھر یوسف کے سامنے اُس کے باپ جائے بھائی کھڑے تھے جن کی سفارش کرنے والے اُن کے ماں باپ موجود تھے مگر یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے عزیزوں اور بھائیوں کے قاتل تھے۔حضرت حمزہ کو قتل کرنے والے کون لوگ تھے؟ رسول کریم ﷺ کی چہیتی بیٹی کو مارنے والے کون تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں؟ اور خاوند نے اس خیال سے کہ والد کی عداوت کی وجہ سے لوگ انہیں مکہ میں تنگ کرتے تھے مدینہ روانہ کر دیا تھا مگر کفار نے راستہ میں انہیں سواری سے گرا دیا جس سے اسقاط ہو گیا اور اسی کی وجہ سے بعد میں آپ کی وفات ہو گئی۔حضرت یوسف کے سامنے کون سے جذبات تھے سوائے اس کے کہ ان کے بھائیوں نے اُن کو وطن سے نکال دیا تھا مگر یہاں تو یہ حالت تھی کہ ابوطالب کی روح آنحضرت علی سے کہہ رہی تھی کہ میرے (جس نے تیری خاطر تیرہ سال تک اپنی قوم سے مقابلہ کیا ) یہ لوگ قاتل ہیں۔عالم خیال میں حضرت خدیجہ آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا مال و دولت، اپنا آرام آسائش سب کچھ آپ کیلئے قربان کر دیا تھا اور یہ لوگ میرے قاتل ہیں۔حضرت حمزہ کھڑے کہہ رہے تھے کہ ان میں ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری لاش کی بے حرمتی کی تھی اور میرے جگر اور کلیجہ کو باہر نکال کر پھینک دیا تھا۔آپ کی بیٹی آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ایک عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے شرم نہ آئی اور ایسی حالت میں مجھ پر حملہ کیا جبکہ میں حاملہ تھی اور مجھے ایسا نقصان پہنچایا جس سے بعد میں میری وفات