سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 262

سيرة النبي عمال 262 جلد 4 مسلمان نہ خرید سکتے تھے۔حضرت ابوبکر کی روایت ہے کہ اتنی تنگی ہوگئی تھی کہ بعض دفعہ دنوں کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔پاخانے سوکھ گئے اور جب پاخانہ آتا تو بالکل مینگنیوں کی طرح ہوتا کیونکہ بعض اوقات درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے 4 اور بعض اوقات کھجور کی گٹھلیاں۔احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی چہیتی بیوی جس نے اسلام کیلئے ہر چیز قربان کر دی تھی یعنی حضرت خدیجہ ان کی وفات انہی مظالم کے باعث ہوئی۔ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ جن بی بی کے بیسیوں غلام تھے اور جو لاکھوں روپے کی مالک اور جو مکہ کے مالدار اشخاص میں سے تھیں، جو بیسیوں گھرانوں کو کھانا کھلا کر خود کھاتی تھیں بڑھاپے میں ان کو کئی کئی فاقے کرنے پڑتے اور اگر کچھ کھانے کو ملا بھی تو درختوں کے پتے وغیرہ۔اُس وقت ان کی صحت پر کیا اثر پڑا ہوگا۔چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے وہ فوت ہو گئیں۔آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب بھی انہی تکالیف کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ان حالات میں تو ایک عام انسان تو در کنار بہادر سے بہادر اور جری سے جری انسان کے ساتھ بھی اگر ایسی حالت ہوتی تو اس کے دل کا غصہ انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے۔اگر ایسی ہی وفادار بیوی انہی حالات میں کسی اور شخص کی ضائع ہوتی تو وہ ان وفاداریوں اور قربانیوں کو یاد کر کے اور ان بچوں پر نگاہ ڈال کر جنہیں بے نگران چھوڑ کر وہ دنیا سے رخصت ہوتی ، بہادر سے بہادر انسان بھی قسم کھاتا کہ اس صدمہ کے عوض قریش کی ہر عورت کو بھی قتل کرنا پڑا تو میں اس سے دریغ نہ کروں گا۔رسول کریم ﷺ نے کیا کیا؟ ایک صحابی کا بیان ہے کہ ایک جنگ میں جب رسول کریم علیہ نے قریش کی ایک عورت کی لاش دیکھی تو آپ اس قدر غصہ میں آئے کہ میں نے آپ کو اس قدر غصہ میں کبھی نہ دیکھا تھا اور آپ نے سخت غصہ کی حالت میں دریافت کیا کہ اسے کس نے قتل کیا ہے؟ اور پھر فرمایا کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، ضعیفوں، بیماروں اور مذہبی لیڈروں پر کبھی ہاتھ مت اٹھا ؤ5۔کجا وہ سلوک اور کجا یہ۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بہادری کا مفہوم یہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے بتایا۔مگر میں اپنی