سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 256

سيرة النبي علي 256 جلد 4 دوسرے کو آواز نہیں دیتا کہ کوئی مجھے بچائے بلکہ بے اختیار اپنی ماں کو پکارتا ہے۔یہ جذباتی تعلق ہے جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ بغیر دعا کے انسان کے ایمان کو کامل نہیں کیا جاسکتا۔پس آنحضرت ﷺ نے بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کو ماں اور بچہ کا ساتعلق قرار دیا ہے کہ دنیا سے آنکھ بند کر کے اس کی طرف بھاگے جب بھی دکھ پہنچے تو بھاگ کر اسی کے آستانہ پر گرے۔دوسری چیز اخلاق میں ہم دیکھتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایسے باریک در بار یک اخلاقی پہلو معلوم ہوتے ہیں کہ بار یک نگاہ والے بھی دیکھ نہیں سکتے۔مثلاً بیویوں کے معاملہ میں ہی آپ کے متعلق آتا ہے کہ جب کوئی آپ کی بیوی پانی پیتی آپ اُسی جگہ منہ لگا کر پانی پیتے جہاں سے اس نے پیا ہوتا2۔یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر کیسا باریک نکتہ ہے کہ انسانی محبت بڑے بڑے معاملات سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔اخلاق کے بڑے معاملات میں بھی آپ نے ایسی تعلیم دی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ شخص ساری عمر اخلاقیات کا مطالعہ کرتا رہا ہے۔بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات، رشتہ داروں کے باہمی تعلقات، انسان کے ذاتی کیریکٹر کی تفصیلات، جھوٹ ، خیانت، بدگمانی سے پر ہیز تمام امور نظر آتے ہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جس کا ذکر نہ آیا ہو بلکہ اپنی ذات میں ایسا کامل نمونہ دکھا یا ہے کہ اگر کسی شخص کو بیسیوں زندگیاں عطا ہوں تب بھی اس کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔تیسری چیز مادیات ہیں ان کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں تو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں مادیات میں اصلاح کی تعلیم بھی معلوم ہوتی ہے۔سڑکوں کو کھلا کرو، پانی کی صفائی رکھو، راستہ کی صفائی کرو، مکان کشادہ بناؤ وغیرہ احکام سے آپ کی تعلیم پر ہے۔پس مادیات کے لحاظ سے بھی آپ کی تعلیم ایسی مکمل ہے کہ حیرت آجاتی ہے۔تمام ضروری مادی چیزیں خواہ وہ سیاست سے تعلق رکھتی ہوں یا تمدن سے تعلق رکھتی ہوں یا تجارت سے یا صنعت سے صلى الله متعلق ہوں ہر ایک شے کو رسول کریم ﷺ نے اپنی اپنی جگہ پر بیان فرمایا ہے لیکن