سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 253

سيرة النبي متر 253 جلد 4 صلى الله صلى صلى الله کیلئے جوش میں نہیں آتیں۔آخر خدا کے سپاہی اور گاؤں کے گنوار لٹھ باز میں کوئی فرق بھی تو ہونا چاہئے۔وہ فرق یہی ہے کہ گنوار لٹھ باز کی غیرت اُس وقت بھڑکتی ہے جب اس کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہو لیکن خدا تعالیٰ کے سپاہی کی غیرت اُس وقت بھڑکتی ہے جب خدا تعالیٰ کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہو۔محمد ﷺ کے گھر پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا گھر چھوڑ دیا، محمد ہے کے وطن پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا لیکن جب خدا تعالیٰ کی ذات پر حملہ ہوا تو اُس وقت محمد ﷺ خاموش نہ رہے بلکہ آپ نے الله کفار کو جواب دیا۔محمد حملے کی جائیدادیں اور آپ کے اموال اور آپ کے املاک اور آپ کی زمینیں چھین چھین کر دشمنوں نے جو حالت کر دی تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ جب آپ حج کیلئے فتح مکہ کے بعد مکہ تشریف لائے تو کسی نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! آپ کہاں ٹھہریں گے؟ کیا ہی وہ دردناک جواب ہے جو رسول کریم ﷺ نے دیا۔آپ نے فرمایا ہمارے لئے تو عقیل نے کوئی گھر چھوڑا ہی نہیں ہم کہاں ٹھہریں گے 2۔وہ شخص جس کے باپ دادے مکہ پر حکومت کرتے چلے آئے تھے سات سال کے بعد مکہ میں ایک اجنبی کی حیثیت میں آتا ہے اور جب اُس سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ تو وہ مسیح علیہ السلام کی طرح کہتا ہے درندوں کیلئے ماندیں ہیں اور چڑیوں کیلئے گھونسلے مگر ابن آدم کیلئے سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں 3۔ہمارے لئے تو کوئی گھر ہی باقی نہیں رہا ہم کہاں ٹھہریں گے۔مگر خدا تعالیٰ کیلئے انہی محمد ﷺ کی غیرت دیکھو کہ حنین کے موقع پر صحابہ ایک وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ، اسلامی لشکر کفار کی شمولیت کی وجہ سے تتر بتر ہو جاتا ہے صرف بارہ آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد رہ جاتے ہیں اور چار ہزار کا لشکر دونوں طرف سے تیروں کی بارش برسا رہا ہے ایسی حالت میں گھبرا کر صحابہ عرض کرتے ہیں کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! یہ کھڑے رہنے کا موقع نہیں میدانِ جنگ سے پیچھے بیٹے اور ایک تو وفور محبت کی وجہ سے آپ کے گھوڑے کا باگ پکڑ لیتا اور اسے آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے مگر رسول کریم ہے اس کو ہٹا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں