سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 252

سيرة النبي م صلى الله - 252 جلد 4 تتر بتر ہو چکا ہے اور صحابہ سخت زخمی تھے اور رسول کریم ﷺ یہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ ایسی حالت میں دشمن کو چھیڑا جائے اسی لئے آپ صحابہ کو جواب دینے سے منع فرماتے رہے کہ دشمن کو انگیخت کرنے کا کیا فائدہ۔جب انہوں نے سمجھ لیا کہ رسول کریم بھی مارے گئے ہیں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی مارے گئے ہیں تو ابوسفیان زور سے چلایا اور اُس نے بلند آواز سے نعرہ مار کر کہا اُعْلُ هُبل أغلُ هُبل - قبل مشرکین مکہ کا بہت بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا، اُس کا نام لے کر ابوسفیان نے پکارا اُس کی شان بلند ہو کیونکہ صبل آخر تو حید پرستوں کے مقابلہ میں جیت گیا، یہ لوگ مارے گئے اور ھبل کو فتح ہوئی۔جب ابوسفیان نے یہ نعرہ لگایا تب وہی محمد جو تینوں موقعوں پر صحابہ کو خاموش کرتے چلے آئے تھے اور صحابہ بھی اس لئے خاموش تھے کہ رسول کریم ع کے جواب دینا پسند نہیں فرماتے تھے جب ابوسفیان نے کہا أعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبل تو آپ کی ساری احتیاط اور سارا حرم جاتا رہا اور آپ نے صحابہ سے فرمایا کیوں جواب نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا کہ يَارَسُوْلَ اللهِ! ہم تو اس لئے خاموش ہیں کہ آپ نے ہمیں جواب دینے سے منع فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں اب جواب دو۔انہوں نے کہا يَارَسُولَ اللهِ! کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا کہو اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ 1 تمہارا میل جھوٹا ہے، اللہ ہی ہے جو عزت اور الله جلال والا ہے۔تو محمد ﷺ کے طریق عمل نے ہم کو بتا دیا کہ ہماری غیرتیں کیا اور ہمارے جوش کیا اور ہماری ہمتیں کیا سب خدا اور اس کے رسول کیلئے ہونی چاہئیں۔پس ہزاروں قربانیوں کے موقعے تمہارے لئے موجود ہیں۔سات ہزار کی قادیان کی احمدی آبادی ہے اس میں سے کم سے کم ڈیڑھ ہزار مرد ہوں گے۔میں نے تبلیغ عام کا اعلان کیا ہوا ہے مگر ان میں سے کتنے ہیں جو سال میں سے ایک مہینہ قربان کر کے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام دنیا میں پہنچانے کیلئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم واقعہ میں غیرت مند ہیں تو کیوں ہماری غیرتیں خدا تعالیٰ کے نام