سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 251

سيرة النبي علي 251 جلد 4 وو رسول کریم عملہ کی غیرت ایمانی حضرت مصلح موعود 19 جون 1936 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم و احد کی جنگ میں جب زخمی ہوئے تو کفار میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ رسول کریم ﷺ نَعُوذُ بِاللہ مارے گئے ہیں اس سے قدرتی طور پر ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ان کا لشکر ایک جگہ اکٹھا ہو کر اس بات پر فخر کر رہا تھا کہ ہم نے صلى الله صلى الله محمد (ﷺ) کو نَعُوذُ بالله مار دیا ہے اس موقع پر ابوسفیان نے کفار کے لشکر کی طرف سے آواز دی اور کہا کہاں ہے محمد (ع ) ؟ رسول کریم ﷺ اس وقت تک ہوش میں صلى الله آچکے تھے آپ نے جب سنا کہ ابوسفیان کہہ رہا ہے کہ کہاں ہے محمد (ع ) ؟ اور صحابہ نے اس کا جواب دینا چاہا تو رسول کریم ﷺ نے انہیں منع فرما دیا اور کہا مت جواب دو خاموش رہو۔صحابہ کی طرف سے جواب نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ بات درست ہے کہ محمد ( ﷺ ) نَعُوذُ باللہ مارے گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے خوشی سے نعرہ بلند کیا اور کہا ہم نے محمد (ﷺ) کو مار دیا۔اس کے بعد انہیں قدرتی طور پر خیال پیدا ہوا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص مسلمانوں کو سنبھال سکتا ہے تو وہ ابو بکر ہے اس پر ابوسفیان نے آواز دی کہاں ہے ابوبکر ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جواب دینے لگے تو رسول کریم ﷺ نے منع فرما دیا اور کہا مت جواب دو۔اس پر پھر کفار نے خوشی سے ایک نعرہ مارا اور کہا کہ ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔پھر ابوسفیان نے پوچھا کہاں ہے عمر؟ حضرت عمر نہایت تیز مزاج تھے وہ یہ کہنے کو ہی تھے کہ عمر تمہارا سر توڑنے کیلئے موجود ہے کہ رسول کریم اللہ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا خاموش رہو کیونکہ اس وقت اسلامی لشکر