سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 246

سيرة النبي علي 246 جلد 4 دھو بیٹھنے کا خطرہ تھا۔سارا مکہ اُن کو سلام کرتا تھا اور اب ان کے سامنے جو صورتِ حالات تھی اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا تھا کہ کوئی اُن کو منہ بھی نہ لگاتا اور یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس قسم کی عزتوں کیلئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں بھی کر دیتے ہیں اور ایک ایک سلام کیلئے مرا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ جب آپ تعلیم سے فارغ ہو کر نئے نئے بھیرہ میں آئے تو بعض مولویوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ وہابی ہیں اور بعض نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے کی تحریک شروع کی۔اُس وقت اس علاقہ میں ایک معزز پیر صاحب تھے جن کا بھیرہ اور نواح میں بہت اثر تھا اور فتویٰ کفر شائع کرانے والے ان کے پاس بھی گئے کہ دستخط کر دیں۔باقی مولویوں سے تو حضرت خلیفہ اول کے دوست نہ ڈرتے تھے مگر ان پیر صاحب کے متعلق انہیں ضرور خیال تھا کہ اگر یہ بھی مولویوں کے ساتھ مل گئے تو فساد بڑھ جائے گا اس لئے آپ کے دوستوں میں سے ایک زیرک دوست پیر صاحب کے پاس پہنچے اور کہا کہ سنا ہے مولوی لوگ آپ سے فتویٰ لینے آئے تھے۔پیر صاحب نے کہا ہاں آئے تھے اور جو باتیں وہ کہتے ہیں ٹھیک ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ فتویٰ دے دوں۔اس پر اس دوست نے کہا کہ آپ تو پیر ہیں اور سب نے آپ کو سلام کرنا ہے نور دین خواہ کچھ ہو آپ کو سلام تو ضرور کرتا ہے اور اگر آپ نے فتویٰ دے دیا تو وہ اور ان کے دوست آئندہ آپ کو سلام نہیں کریں گے۔اس پر پیر صاحب گھبرا گئے اور کہا کہ بھلا ہم پیروں کا فتووں سے کیا تعلق ہے آپ مولوی صاحب سے کہہ دیں کہ سلام نہ چھوڑیں۔اس دوست نے آکر حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ میں اس طرح کر آیا ہوں اور اب پیر صاحب چاہیں گے کہ آپ اُن کو سلام کریں۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا کیا حرج ہے کر دیں گے۔چنانچہ وہ دوست پھر پیر صاحب کے پاس گئے اور پیر صاحب سے کہا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پیر صاحب بڑے آدمی ہیں ہم ان کو سلام کیوں نہ کریں گے۔اس پر پیر صاحب بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھا ہم فلاں روز اس