سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 245

سيرة النبي عمال 245 جلد 4 بیوی بچوں والے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیا صورت ہوگی؟ گزارہ کا کیا انتظام ہوگا ؟ لیکن حضرت ابراہیم جو یتیم ہونے کی وجہ سے پہلے ہی شکستہ دل تھے اور جن کا پہلے ہی کوئی ٹھکانہ نہ تھا اپنے چچا کے ہاں اور اس کی مہربانی سے پرورش پارہے تھے وہ اپنے دل سے یہ سوال نہیں کرتے کہ اب گزارہ کی کیا صورت ہوگی بلکہ بلا سوچے بہادرانہ طور پر یہ جواب دیتے ہیں کہ جن بتوں کو انسان خود گھڑتے ہیں اُن کو میں سجدہ نہیں کرسکتا۔بعینہ اسی قسم کا واقعہ رسول کریم ﷺ کو پیش آیا جب ایک لمبے عرصہ تک آپ نے شرک کے خلاف تعلیم دی اور ایک لمبی کوشش کے بعد اہلِ مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو دوبارہ اپنے دین میں شامل کر لینے سے مایوس ہو گئے تو مکہ کے رؤسا آپ کے چچا بوطالب کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کی خاطر ہم اب تک آپ کے بھتیجے سے نرمی کرتے رہے ہیں مگر ہمارے سایہ کے نیچے رہتے ہوئے اس نوجوان نے ہمارے معبودوں کو بہت بری طرح ذلیل کیا ہے ہم اس پرختی کر سکتے تھے مگر ہمیں آپ کا لحاظ تھا اس لئے اس سے وہ سلوک نہ کیا جس کا وہ مستحق تھا مگر اب یہ بات ہمارے لئے نا قابل برداشت ہوگئی ہے اور ہم یہ آخری پیغام لے کر آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ اسے سمجھا ئیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنی تعلیم پیش نہ کرے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں پر سختی سے حملہ نہ کرے اور تبلیغ میں نرمی کا پہلو ر کھے۔اور اگر وہ آپ کے کہنے سے اتنا بھی کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو آپ اس سے قطع تعلق کر لیں اور ہم پر اس کا معاملہ چھوڑ دیں۔اگر آپ اس کیلئے تیار نہیں ہیں تو گو ہمارے دلوں میں آپ کا ادب بہت ہے اور آپ کے خاندان کو فضیلت حاصل ہے لیکن اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہم صبر نہیں کر سکتے اور آپ سے بھی ہمیں مجبوراً قطع تعلق کرنا پڑے گا۔ابو طالب مومن نہ تھے اور ایمان کے بعد جس بہادری سے انسان کا تعلق ہو جاتا ہے اس سے محروم تھے۔وہ رئیس تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ریاست سے ہاتھ