سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 244

سيرة النبي علي 244 جلد 4 رسول کریم علیہ کی بہادری اور توکل حضرت مصلح موعود یکم مئی 1936 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بچے تھے اور یتیم بچے ، ان کا چچا ان کو پال رہا تھا ان کو جس وقت ساری قوم نے شرک کیلئے مجبور کیا جسے ان کی فطرت قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھی ان کے چچا اور چچازاد بھائیوں نے ان کو مشورہ دیا کہ ہم پر وہت 1 ہیں اور ہمارا گزارا ہی اس پر ہے اگر آپ نے بتوں کی پرستش نہ کی تو ہمارا رزق بند ہو جائے گا۔اُس وقت اس نہایت ہی چھوٹی عمر کے بچے نے دلیری سے یہ جواب دیا کہ جن بتوں کو انسان اپنے ہاتھ سے گھڑتا ہے ان کو میں ہرگز سجدہ نہیں کرسکتا۔اس جواب کا اندازہ ہر شخص نہیں کرسکتا صرف وہی کرسکتا ہے جسے قربانی کرنے کا موقع ملا ہو۔آج جبکہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں موجود ہے اور میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ظلم ہوتا نہیں کیونکہ ہمیں خود ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن اکثر حکام انصاف کی کوشش مرور کرتے ہیں۔ایک قانون موجود ہے جو چاہتا ہے کہ انصاف ہو گو ظالم اپنے ظلم کیلئے اس میں سے رستے نکال لیتے ہیں لیکن پھر بھی ظلم حد کے اندر رہتا ہے۔اس پُر امن زمانہ میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں پر جب صداقت کھل جاتی ہے تو وہ مجھے لکھتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان یا احمدی ہو جائیں تو ہمارے گزارہ کی کیا صورت ہوگی ؟ ہمارے ساتھ ہمدردی کی کیا صورت ہوگی ؟ آج جب احمدیت کو قبول کرنے میں کوئی خاص تکالیف نہیں سوائے معمولی تکالیف کے اچھے اچھے تعلیم یافتہ ، بڑی عمر کے اور