سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 233

سيرة النبي علي 233 جلد 4 وو رسول کریم اللہ کا انداز تربیت حضرت مصلح موعود 28 فروری 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ہے جب ایک جہاد میں تشریف لے گئے جس میں مسلمانوں کو بہت سی دقتیں پیش آئیں تو آپ کو محسوس ہوا کہ بعض صحابہ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ انہوں نے دین کی خدمت دوسروں سے نمایاں طور پر کی ہے اس پر آپ نے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں ایسے رہتے ہیں کہ تم کسی وادی میں سے نہیں گزرتے اور کوئی تکلیف خدا تعالیٰ کے رستہ میں برداشت نہیں کرتے مگر جس طرح تمہیں ثواب ملتا ہے اسی طرح انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب مل رہا ہے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ کیونکر؟ ہم اسلام کی خدمت کیلئے باہر نکلے ہوئے ہیں، خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو قربان کر کے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھا رہے ہیں اور وہ مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہیں۔پھر وہ اسی ثواب کے مستحق کیونکر ہو سکتے ہیں جس کے ہم ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے مگر جن کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ معذور لوگ ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ پاؤں ہوتے تو وہ بھی جہاد کیلئے نکلتے ، اگر ان کے پاس مال ہوتا تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ کرتے ، اگر ان کے پاس طاقت ہوتی تو وہ بھی اس سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے مگر ان کے پاس کچھ نہیں وہ معذور ہیں اور اپنی معذوری کو دیکھ کر ان کے دل مدینہ میں بیٹھے خون ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کاش! ہمارے پاس مال ہوتا ، کاش! ہمارے پاس طاقت ہوتی تو آج ہم بھی جہاد کرتے۔پس وہ خدا تعالیٰ کے حضور تم سے