سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 224

سيرة النبي علي 224 جلد 4 رسول کریم علم اور مقامات مقدسہ سے پیار حضرت مصلح موعود 26 دسمبر 1935ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے احراریوں کے الزامات کا یوں جواب دیتے ہیں :۔اس کے بعد میں موجودہ سال کے ایک نہایت ہی اہم واقعہ کی طرف جو مباہلہ کا ہے احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔احرار کی طرف سے متواتر ہم پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی نَعُوذُ بِالله تک کرتے ہیں۔آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ سے درجہ میں بلند سمجھتے ہیں اور یہ کہ نَعُوذُ بِاللہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ اگر ان مقدس مقامات کی اینٹ سے اینٹ بھی بج جائے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔یہ بات جیسی جھوٹی اور بے بنیاد ہے اس کو ہر احمدی کا دل ہی جانتا ہے اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اس کو محسوس نہ کرتا ہو۔ہمیں گندی سے گندی گالیاں دی جاتی ہیں، برے سے برے نام رکھے جاتے ہیں، دل آزار سے دل آزار کلمات ہمارے متعلق استعمال کئے جاتے ہیں مگر ہمیں کبھی بھی ان الفاظ سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی ہمیں اس بات کے سننے سے ہوتی ہے کہ ہم نَعُوذُ بِالله رسول کریم ع کی ہتک کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانے پر بھی خوش ہیں۔غالبا احرار نے یہ جانتے ہوئے ہی ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں دوسری گالیاں انہیں اتنا دکھ نہیں دیتیں جتنی یہ بات دکھ دیتی ہے اس لئے وہ ہمارے متعلق یہ اعتراض کر کے ہمیں صلى الله