سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 212

سيرة النبي علي 212 جلد 4 سردار بنایا اور روئے زمین کے تمام انسانوں کے لئے اسے ہادی بنا کر مبعوث کیا،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ انسانی کوششوں سے بلکہ محض اپنے فضل اور رحم سے فرشتوں کی فوج کی مدد کے ساتھ اسے فتح دی اور مکہ جو اُس کا وطن تھا اس کے قبضہ میں دے دیا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مکہ میں اسے فاتحانہ طور پر داخل کیا تو مکہ جہاں کا وہ رہنے والا تھا اس کے باشندے تو اونٹوں اور بھیڑوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے لیکن مدینہ کے لوگ جہاں کا وہ رہنے والا نہ تھا اپنے گھروں میں خدا کے رسول کو لے آئے 1۔تو دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چاندی اور سونے کے لئے محنتیں کرتے ہیں جیسے مکہ والے تھے کہ وہ اونٹوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے۔ان کا بھی کام کرنے سے مقصد و مدعا یہ ہوتا ہے کہ سونا اور چاندی ان کی جیبوں میں پڑے۔لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مد نظر مال و دولت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ان کا منتہائے نظر ہوتا ہے۔تو آپ لوگوں نے جو کام کیا ہے اگر چہ صرف آپ نے ہی یہ کام نہیں کیا گورنمنٹ کے سپاہی بھی اس کام پر متعین تھے اور جب وہ جائیں گے تو کسی کو رستہ کے اخراجات کے لئے روپیہ ملے گا اور کسی کو بھیتا ملے گا لیکن اس قسم کی کوئی چیز آپ لوگوں کو نہیں ملی اور گو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ آپ لوگوں کا وقت ضائع گیا لیکن جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مکہ کے لوگ تو اونٹوں کے گلے اپنے گھروں کو لے گئے اور مدینہ کے لوگ خدا کا رسول لے آئے۔اسی طرح اس کام کے بدلے جو چیز آپ لوگوں کو ملی ہے وہ ان لوگوں کو نہیں ملی۔آپ لوگوں نے سلسلہ کی حفاظت کا کام کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی ہے جس کے مقابلہ میں سونے (الفضل 26 نومبر 1935ء ) 66 اور چاندی کی کوئی حیثیت نہیں۔“ 1: بخاري كتاب فرض الخمس باب ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم صفحہ 523 حدیث نمبر 3147 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية