سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 208
سيرة النبي علي 208 جلد 4 مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔اب صرف یہ ہوسکتا ہے کہ تم لوگ ایک چیز چن لو یا مال یا قیدی۔اگر مال کہو تو میں واپس دلوا دیتا ہوں اور اگر قیدی کہو تو انہیں چھڑوا دیتا ہوں۔دونوں میں سے جو بھی صورت پسند ہو بتا دو۔انہوں نے اپنے قبیلہ سے مشورہ کیا تو فیصلہ کیا ہمیں مال نہیں چاہئے قیدی دے دیئے جائیں۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا میں نے اس قوم میں دودھ پیا ہے کیا تم اس تعلق کی وجہ سے ان کے قیدی چھوڑ سکتے ہو؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! ہمیں اس سے زیادہ خوشی اور کس میں ہو سکتی ہے چنانچہ انہوں نے سب قیدی رہا کر دیے 2۔تو مومن کو طاقت اور تعداد ڈرا نہیں سکتی بلکہ جتنا زیادہ اسے ڈرایا اور دھمکایا جائے اور جتنا زیادہ اُس پر دباؤ ڈالا جائے اتنا ہی زیادہ وہ اونچا ہوتا ہے مگر جتنا زیادہ اس کے سامنے جھکو اتنی ہی زیادہ وہ محبت کرتا ہے۔“ (الفضل 13 نومبر 1935 ء ) 66 1 : بخاری کتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب وكتابة الشروط صفحه 448،447 حدیث نمبر 2731 ، 2732 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2: بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى و يوم حنين اذ اعجبتكم كثرتكم صفحه 730 حدیث نمبر 4318، 4319 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية