سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 207

سيرة النبي عمال 207 جلد 4 تم پر میرا کوئی احسان نہیں۔یہ دوسرے شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے 1۔تو مومن اگر قید کیا جا سکتا ہے تو احسان سے۔ایک دفعہ کسی جنگ میں ایک شخص کفار کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوا تو رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا دیکھنا لڑائی میں فلاں شخص بھی شامل ہے یہ میرے ساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اور جب مکہ والے میری مخالفت کرتے اور سخت ایذائیں دیا کرتے تھے تو یہ پوشیدہ طور پر میری مدد کیا کرتا ، اس کا خیال رکھنا۔اگر چہ مہاجر اس سے واقف تھے مگر چونکہ انصار واقف نہ تھے اور وہ بھی جنگ میں شامل تھے اس لئے اُنہیں بتانے کے لئے رسول کریم علیہ نے یہ فرمایا۔اسی طرح حنین کی جنگ جس میں مسلمانوں کو بوجہ اس کے کہ مکہ کے نو مسلم بھی اس میں شامل ہو گئے تھے بہت بڑا نقصان پہنچا تھا یہاں تک کہ ایک موقع پر رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک بھی خطرے میں پڑ گئی تھی اور چار ہزار تجربہ کار تیراندازوں کے نرغہ میں رسول کریم ﷺ آگئے تھے اور صرف چند صحابہ آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ایسی خطرناک جنگ کے ختم ہونے کے بعد جس میں بہت سے مسلمان مارے گئے تھے آخر دشمن قید کر لئے گئے اور ان کے اموال پر قبضہ کر لیا گیا۔یہ قید ہونے والے اُس قوم میں سے تھے جس میں رسول کریم ﷺ بچپن میں رہے اور جس قوم کی ایک عورت کا آپ نے دودھ پیا تھا۔کفار نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کی صلى الله رضاعی بہن سے کہا کہ تو جا اور رسول کریم ﷺ سے ہماری سفارش کر۔ان میں سے خود کوئی رحم کی درخواست کی بھی جرات نہیں کرتا تھا کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔جب رسول کریم ﷺ کی رضاعی بہن آپ کے پاس آئی اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میں آپ کے پاس ایک کام سے آئی ہوں تو رسول کریم علی نے فرمایا بہن! میں تو تیرا ایک مہینہ تک انتظار کرتا رہا تا تو سفارش کے لئے آئے تو مجھے تیری سفارش رد نہ کرنی پڑے مگر ایک مہینہ کے انتظار کے بعد میں نے غنیمت کا